ٹرمپ ایران کو یورینیم افزودگی کی مشروط اجازت دینے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر راضی

 آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز کے خلاف امریکی کارروائی کے بعد ایران نے مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا تھا کہ موجودہ حالات میں امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، تاہم پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے ایک بار پھر متحرک ہو کر اس ڈیڈلاک کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے مذاکرات کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے میں واضح لچک نظر آنے لگی ہے۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے اور وہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ ایران سے معاہدے پر جلد دستخط ہو جائیں گے اور نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر مذاکرات میں کوئی حقیقی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر حال میں مذاکرات کرنا ہیں اور میرا خیال ہے کہ اس وقت کوئی بھی فریق کھیل نہیں کھیل رہا۔

ایک اور اہم پیش رفت میں برطانوی جریدے ’ڈیلی میل‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو یورینیم کی افزودگی کی مشروط اجازت دینے پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے تحت ایران کو پہلے دس سال تک افزودگی روکنا ہوگی اور اس کے بعد اسے محدود پیمانے پر اجازت دی جا سکے گی۔

دوسری جانب ایرانی قیادت اب بھی محتاط نظر آتی ہے۔ ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمیں دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں اور امریکا مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے والی میز میں بدلنا چاہتا ہے۔

تاہم، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر عقلی اور سفارتی راستہ اپنانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وعدوں کی پاسداری ہی بامعنی مذاکرات کی بنیاد ہے، ایران کسی جبر کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے گا لیکن ہماری خواہش ہے کہ یہ جنگ باوقار انداز میں ختم ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں