‏فتنہ الہندوستان کی خاتون خو بمبارکےسہولت کارمنظوراحمدکی بیوی رحیمہ بی بی کےانکشافات

میرا نام رحیمہ بی بی ہے۔میرا تعلق فیصل کالونی دالبندین سے ہے۔میرے شوہر کا نام منظور احمد ہے۔

میری شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی۔شادی کے دو ماہ بعد میرے شوہر نے مجھے ایک موبائل فون خرید کر دیا۔جو میں استعمال کرتی تھی۔

میرے شوہر کے پاس اپنا موبائل فون ہونے کے باوجود وہ کبھی کبھار میرا فون بھی استعمال کرتے تھے۔شروع میں مجھے یہ سب معمولی لگا،مگر رفتہ رفتہ مجھے شک ہونے لگا۔

جب میں نے ان سے سوال کیاتو وہ کہتے تھے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔اور کسی کام کی وجہ سےوہ میرا فون استعمال کرتے ہیں۔

11 نومبر 2025 کی شام تقریباً چار بجےمیرے شوہر ایک انجان عورت کو گھر لے آئے۔میرے پوچھنے پر انہوں نے کہاکہ یہ ایک مسافر عورت ہے۔اور کچھ وقت کے لیے ہمارے گھر رہے گی۔

ایک رات گزارنے کے بعد12 نومبر 2025 کومیرے شوہر اس عورت کو گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔وہ دو سے تین دن تک گھر سے غائب رہے۔واپس آ کر انہوں نے بتایاکہ اس عورت کو افغانستان میں رشتہ داروں کے حوالے کر دیا ہے۔

اس کے بعد میرے شوہردالبندین میں ہی رہنے لگے۔30 نومبر 2025 کواسی دن میرے شوہر نے مجھے ایک تصویر دکھائی اور کہا کہ یہی وہ عورت ہے۔جس نے خودکش حملہ کیا ہے۔تصویر دیکھ کر میں حیران رہ گئی کیونکہ یہ وہی زرینہ تھی۔

جو ہمارے گھر قیام کر چکی تھی۔اور اس سے رابطے کے لیےمیرے شوہر میرا فون استعمال کرتے تھے۔3 دسمبر 2025 کومیرے شوہر دالبندین سے افغانستان فرار ہو گئے۔انہوں نے میرے چھوٹے بھائی زبیر سے رابطہ کیا۔اور کہا کہ میری بیوی کوافغانستان میرے پاس پہنچا دو۔

نودسمبر 2025 کومیں اپنے بھائی زبیر کے ساتھ روانہ ہونے والی تھی۔مگر 8 دسمبر کی رات ہم دونوں گرفتار ہو گئے۔

میری گرفتاری کے باوجودمیرے شوہر نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا۔انہوں نے مجھےمیرے والدین، خاندان اور قبیلے کے لیےمصیبت اور بدنامی کا باعث بنا دیا۔

اب وہ ہمارے ہونے والے بچے کی بھی ذمہ داری لینے سے انکار کر رہےہیں۔کئی بار انہیں پیغام بھیجا گیاکہ وہ خود کو اداروں کے حوالے کریں۔

مگر ان کا جواب یہی ہوتا ہے “میری بیوی کو مار دو، مجھے کوئی پرواہ نہیں”۔میں تمام والدین سے درخواست کرتی ہوں کہ رشتہ کرنے سے پہلےلڑکے کے بارے میں مکمل جانچ پڑتال کریں۔اور اگر وہ کسی دہشت تنظیم سے منسلک ہوتو ہرگز اپنی بیٹی کا رشتہ نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں