بلوچستان کے ارکانِ پارلیمنٹ کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی ایک بار پھر اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب، اندر کی کہانی
کوئٹہ: بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی آصف علی زرداری سے ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی
اندرونی ذرائع کے مطابق، سرفراز بگٹی ایک بار پھر صدر کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جبکہ بعض ارکانِ پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے وزیراعلیٰ کے خلاف شکایات پیش کیں۔ تاہم یہ شکایات زیادہ تر ذاتی نوعیت کی تھیں، جنہیں صدر نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ کے حامی ارکان نے ٹھوس اور مدلل دلائل کے ساتھ حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ عوام بھی مجموعی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ ارکان کے مطابق، حکومت کو ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے اور مخلوط سیٹ اپ میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی میں ملاقات کا مقصد ارکان کو کھل کر بات کرنے کا موقع دینا تھا، کیونکہ ان کی موجودگی میں کھل کر گفتگو ممکن نہیں ہوتی۔
صدر نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد چین کا دورہ کریں گے اور واپسی پر بلوچستان کا دورہ کرکے کارکنوں اور ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے موٹے مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں اور انہیں باہمی مشاورت سے حل کیا جا سکتا ہے۔
صدر نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو ہدایت کی کہ وہ تمام اتحادیوں اور ارکان کو ساتھ لے کر چلیں تاکہ شکوے شکایات کا خاتمہ ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ کے خلاف سرگرم عناصر کی انہیں عہدے سے ہٹانے کی ایک اور کوشش بھی ناکام ہوگئی.




