ٹی ٹی پی کے خوارج کا مکروہ چہرہ بے نقاب: بچوں کو شدت پسندی کی طرف دھکیلنے کا انکشاف

پاکستان (ویب سٹوری ) دہشتگردی سے جڑے عناصر کا ایک اور خطرناک اور تشویشناک پہلو سامنے آیا ہے، جہاں کمسن بچوں کو ہتھیار تھما کر انہیں شدت پسندی کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ عمل نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ ایک منظم منصوبہ محسوس ہوتا ہے جس کے ذریعے نئی نسل کے ذہنوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، بچوں کو اسلحہ دینا یا انہیں جنگی سرگرمیوں میں شامل کرنا کسی بھی صورت بہادری نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا طریقہ ہے، جس کا مقصد انہیں شدت پسندی کے دائرے میں داخل کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات دراصل معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے اور ایک جھوٹا اثر قائم کرنے کی کوشش ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں منظرِ عام پر آنے والی چند ویڈیوز میں بچوں کو نعرے لگاتے اور ہتھیاروں کے ساتھ دکھایا گیا، جسے بعض حلقے اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سب ایک پروپیگنڈا حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا اور اپنی موجودگی کا مبالغہ آمیز تاثر دینا ہے۔

مزید یہ کہ ان بچوں کو نہ صرف نعرے بازی تک محدود رکھا جا رہا ہے بلکہ انہیں ایسے کاموں میں بھی ملوث کیا جا رہا ہے جو ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں، جیسے کہ اسلحہ چلانا یا ماحول کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیاں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایسے رجحانات کے خلاف بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہی بچے تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کے بجائے تشدد کی طرف مائل ہو سکتے ہیں، جو پورے معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ صورتحال خاص طور پر خیبرپختونخوا میں تشویش کا باعث بن رہی ہے، جہاں اس قسم کے واقعات مقامی حکمرانی اور ذمہ دار اداروں کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے۔ والدین، اساتذہ، علما اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ بچوں کو شدت پسندی کے اس جال سے محفوظ رکھا جائے اور انہیں ایک پرامن اور روشن مستقبل فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں