کوئٹہ: ظلم کی انتہا یا قانون کا مذاق؟
کوئٹہ میں ٹریفک پولیس کے بار بار چالان اور مبینہ ناروا رویے سے تنگ آ کر ایک بے بس رکشہ ڈرائیور نے احتجاجاً اپنا زرنج رکشہ پولیس کے سامنے جلا دیا۔
رکشہ جلنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی معاملہ خبروں کی زینت بن گیا اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
پولیس نے اپنی بدنامی سے بچنے کے لیے مسئلے کی جڑ جاننے کے بجائے الٹا رکشہ مالک کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے اسے گرفتار کر لیا۔
ریب محنت کش، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار تھا، اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے جبکہ اصل سوالات جواب طلب ہیں۔
کیا احتجاج جرم بن گیا؟
کیا غریب کو انصاف مانگنے کا حق نہیں؟
کیا ذمہ داری صرف کمزور پر ڈال دی جائے گی؟
یہ واقعہ نہ صرف ٹریفک پولیس کے رویے پر سوالیہ نشان ہے بلکہ ہمارے نظامِ انصاف کی حقیقت بھی عیاں کرتا ہے۔
عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور غریب رکشہ مالک کو انصاف فراہم کیا جائے۔




