کوئٹہ:کینٹ کے سامنے پیش آنے والا واقعہ ایک غریب رکشہ ڈرائیور کی بے بسی اور نظام کے ظلم کی دردناک تصویر بن کر سامنے آیا جہاں متاثرہ ڈرائیور کے مطابق ٹریفک پولیس اہلکاروں نے اسے روکا اور پیسوں کا مطالبہ کیا جب اس نے کہا کہ اس کے پاس دینے کو کچھ نہیں تو اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کیا گالیاں دیں اور رکشہ بند کرنے کی دھمکی دی ڈرائیور کا کہنا ہے کہ یہی رکشہ اس کے بچوں کا واحد سہارا تھا اور جب اسے سرعام ذلیل کیا گیا اور روزی چھننے کی دھمکی دی گئی تو وہ ذہنی دباؤ اور بے بسی کا شکار ہو گیا عینی شاہدین کے مطابق ایک محنت کش کو سڑک کے بیچ مارا گیا جس کے بعد اس نے احتجاجاً اپنے زرنج رکشے کو آگ لگا دی یہ آگ صرف ایک گاڑی کو نہیں لگی بلکہ ایک غریب کے خواب اس کے بچوں کے مستقبل اور اس کے اعتماد کو جلا گئی واقعے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا وردی کا مطلب کمزور کو کچلنا ہے اور کیا انصاف صرف طاقتور کے لیے رہ گیا ہے عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ رکشہ ڈرائیور کو انصاف اور معاوضہ دیا جائے کیونکہ اگر آج اس مظلوم کی آواز نہ سنی گئی تو کل کسی اور غریب کی بربادی ایک اور سڑک پر دہرائی جا سکتی ہے
پولیس کی مبینہ رشوت خوری، غریب رکشہ ڈرائیور نے احتجاجاً اپنی روزی کو آگ لگا دی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل




