مکران میڈیکل کالج: سپلیمنٹری نتائج پر طلبہ کا احتجاج اور کلاسز کا بائیکاٹ

مکران میڈیکل کالج کے سپلیمنٹری امتحانات کے نتائج نے طلبہ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے باعث طلبہ نے کلاسز کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ تھرڈ پروفیشنل سپلیمنٹری کے حالیہ نتائج میں چار طلبہ کو وائیوا میں ناکام قرار دے کر سالانہ ری پیٹ ایئر دیا گیا، جس نے پورے کالج میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ یہ صورتحال نئی نہیں بلکہ طلبہ کئی سالوں سے امتحانی نتائج میں بے ضابطگیوں اور شفافیت کی کمی کی شکایات کرتے آرہے ہیں۔

▪️طلبہ کا مؤقف ہے کہ ہر پروفیشنل سال میں محنتی اور قابل طلبہ کی غیر متوقع ناکامی ایک منظم مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے، جو امتحانی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ تھیوری دو مرتبہ پاس کرنے والے طالب علم کو پروف اور سپلیمنٹری دونوں وائیواز میں ناکام کیوں کیا جاتا ہے۔ طلبہ یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ ایسے فیصلے آخر کون کرتا ہے، کس پالیسی کے تحت کیے جاتے ہیں، اور ایم ایم سی میں دوسرے میڈیکل کالجز کے مقابلے میں سپلیمنٹری دینے والوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ کیوں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاموشی مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہے اور اس کا اثر ذہنی صحت، تعلیمی معیار اور مستقبل کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔

▪️طلبہ نے شفاف امتحانی نظام، انتظامیہ کی کارکردگی کے جائزے اور پالیسیوں میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسئلہ صرف چند طلبہ کا نہیں بلکہ پوری طلبہ برادری کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے سنجیدگی سے اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس کا دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔ دوسری جانب انتظامیہ کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ طلبہ کو امید ہے کہ متعلقہ حکام ان خدشات کا نوٹس لے کر شفافیت، انصاف اور بہتری کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں