کابل/اسلام آباد۔ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان نے پاکستان کو ایک بڑا اقتصادی اور سفارتی دھچکا پہنچایا ہے۔ طالبان کی وزارت خزانہ نے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر مکمل پابندی کا حکم دیا ہے۔ افغان تاجروں کو پاکستان کے بجائے متبادل تجارتی راستے تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وہ اب بھارت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
طلوع نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان کی وزارت خزانہ کے ترجمان، عبدالقیوم ناصر نے کہا کہ پابندی کا اطلاق پیر سے ہوا۔ طالبان انتظامیہ نے نہ صرف سرکاری تجارت پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ غیر قانونی راستوں (اسمگلنگ) کے ذریعے درآمد کی جانے والی اشیا پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ضبط شدہ سامان تلف کیا جائے گا۔ اس سے قبل، وزارت نے تاجروں کو پاکستان سے متعلق تمام کاروباری لین دین اور دستاویزات کو ختم کرنے کے لیے 19 دن کا وقت دیا تھا۔
پاکستان اور طالبان کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان سرحدی تنازعات اور جھڑپیں جاری ہیں۔ ستمبر کے بعد سے، افغانستان اور پاکستان کے درمیان اہم ٹرانزٹ روٹس اور سرحدی گزرگاہیں بڑی حد تک بند ہیں۔ طالبان کے نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر نے پہلے تاجروں پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارت معطل کریں اور متبادل راہداریوں کی نشاندہی کریں۔




