پنجاب میں سیلاب کی صورتحال پر غیر روایتی رپورٹ کرنے والی رپورٹر مہرالنساء کی ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ کشتی پر بیٹھ کر کی گئی ان کی کوریج نے دیکھنے والوں کو بیک وقت ہنسانے اور حیران کرنے پر مجبور کردیا۔
ویڈیو میں مہرالنساء کشتی میں کھڑی ہوکر انتہائی پریشانی میں رپورٹنگ کرتی نظر آتی ہیں، لیکن اچانک کشتی کے ہچکولے کھانے پر خوفزدہ ہو کر بول اٹھتی ہیں، ’بہت ڈر لگ رہا ہے، کبھی یہ اِس طرف جھکتی ہے کبھی اُس طرف، بیلنس نہیں ہو رہا ہم سے، بس آپ ہمارے لیے دعا کریں گائز!‘
یہ غیر روایتی جملے اور ڈرتے ہوئے رپورٹنگ کا انداز دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا۔ کئی صارفین نے ان کی معصومیت کو پسند کیا جبکہ کچھ نے ان کے الفاظ کو فلسفیانہ رنگ دیتے ہوئے لکھا کہ، ’بیلنس نہیں ہو رہا ہم سے، یہ صرف کشتی نہیں بلکہ پاکستان کی زندگی کی کہانی ہے۔‘
جبکہ معروف مصنف اور شاعر جناب عقیل عباس جعفری نے صارفین کو مزید مسکرانے پر مجبورکردیا جب انہوں نے لائٹر نوٹ کے طور پر لکھا، ’لڑکیوں کی چاند نواب‘
سیلاب کی آفت سے پریشان اللہ کی بارگاہ میں دعاؤں کی طالب عوام و خواص اس وڈیو سے محظوظ ہوئے بنا نہ رہ سکی۔
تاہم اس رپورٹنگ کے بعد جلد ہی ایک نیا تنازع سامنے آیا۔ ویڈیو میں مہرالنساء کے ہاتھ میں موجود مائیک پر ’بی بی سی‘ لکھا نظر آیا لیکن تمام لوگ اس انداز کی باریک بینی کو نہیں جان سکے لہٰذا کئی لوگوں نے اسے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی نمائندہ سمجھ لیا، لیکن حقیقت مختلف تھی۔
اصل میں مہرالنساء ایک مقامی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’بی بی سی اردو نیوز پنجاب ٹی وی‘ کے لیے رپورٹنگ کر رہی تھیں۔
تاہم جلد ہی دیکھنے میں آیا کہ برطانوی بی بی سی اردو نے فوری طور پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا، ’ہمارے علم میں آیا ہے کہ پاکستان میں ایک ڈیجیٹل میڈیا کمپنی ‘بی بی سی اردو نیوز پنجاب ٹی وی’ کام کر رہی ہے جو بی بی سی کا نام استعمال کر رہی ہے۔ بی بی سی کا اس ادارے سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی اس ادارے کو بی بی سی کا نام استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ہم ناظرین سے درخواست کرتے ہیں کہ کسی بھی مواد کی تصدیق بی بی سی کے آفیشل پلیٹ فارمز پر کریں۔‘
وضاحت کے بعد بھی مہرالنساء پیچھے نہیں ہٹیں۔ ایک اور وائرل کلپ میں انہوں نے اعتماد سے کہا، ’لوگ کہتے ہیں ہم نے بی بی سی کو کاپی کیا، ایسا نہیں ہے۔ ان کا بی بی سی برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن ہے، اور ہمارا بی بی سی بھائی بھائی چینل ہے!‘
وائرل رپورٹرمہرالنساء نے شکوہ کیا کہ بی بی سی کی جانب سے کاپی رائٹ اسٹرائکس لگنے کے بعد ان کے یوٹیوب اور ٹک ٹاک چینلز بند کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’یہ ہماری محنت ہے، ایک چھوٹا سا لاہور بیسڈ چینل ہے۔ ہم بی بی سی سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے چینل کو بحال کیا جائے۔‘
خیال رہے کہ مہرالنساء اس سے قبل ایرانی صدر کے لاہور کے دورے کی رپورٹنگ کے دوران بھی سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر چکی ہیں۔