وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں سپر فلڈ سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل کرلی، امید ہے پانی 9 لاکھ کیوسک سے زیادہ نہیں ہوگا، سندھ میں سپر فلڈ کے دوران 9 میں سے 6 خطرناک مقامات کی نشاندہی کرلی، دریائے سندھ میں 8 یا 9 لاکھ کیوسک پانی آیا تو کچے کا پورا علاقہ ڈوب جائے گا، صوبائی انتظامیہ نے اس حوالے سے کچے کو خالی کروانے کی تیاری کر لی ہے۔
اتوار کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڈو بیراج کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں چاروں دریاؤں میں ایک ساتھ پانی آیا ہے، جہلم، چناب، ستلج اور راوی میں ایک ساتھ پانی آیا، بھارت نے بڑی مقدار میں پانی چھوڑا ہے، سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، تریموں، بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ تیز ہورہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے بقول پنجاب سے سیلاب کا بڑا ریلا سندھ آرہا ہے، سندھ میں پورے پاکستان کا پانی آرہا ہے، پنجند سے پانی گڈو بیراج کی جانب آئے گا، تقریبا 3 لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی گڈو بیراج پر ہے، این ڈی ایم اے کے مطابق 8 سے 11 لاکھ کیوسک تک کا ریلا سندھ آسکتا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کو سپر فلڈ کی تیاری کا کہہ دیا ہے، تونسہ کے بعد دریائے سندھ کا پانی بھی گڈو بیراج میں آئے گا، سیلاب کے حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، پانی 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرجائے تو سپر فلڈ بن جاتا ہے، امید ہے 9 لاکھ کیوسک پانی نہیں آئے گا، پانی 9 لاکھ کیوسک سے زیادہ آیا تو کچے کا علاقہ پورا ڈوب جائے گا، ہمیں کچے کے علاقے سے لوگوں کو نکالنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیوی کا شکر گزار ہوں انہوں نے ایمرجنسی ریسپانس ٹیم مہیا کی، ہم پاک آرمی سے بھی رابطے میں ہیں، لوگوں سے درخواست ہے انتظامیہ سے تعاون کریں تاکہ نقصان زیادہ نہ ہو، جہاں خامیاں ہوں، وہاں کی نشاندہی ضرورکریں، درخواست ہے کسی بھی قسم کی پینک کریئیٹ نہ کریں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے یقینی بنانا ہے بند کسی مقام سے بریچ نہ ہو، کوشش ہے انسانی جانوں، مویشیوں کا کوئی نقصان نہ ہو، لوگوں کی جانیں، مال مویشی بچانا، بند کی حفاظت ترجیح ہے، گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان 6 مقامات پر خطرہ موجود ہے، آج گڈو بیراج کا معائنہ کرنے کے بعد بند پر جاؤں گا۔