اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے ملاقات کی، جس میں نئے میثاقِ جمہوریت کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، آئینی و جمہوری امور اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی آزادیوں کے تحفظ اور گرفتار سیاسی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک کو درپیش سیاسی بحرانوں سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت کی شرائط مشاورت سے طے کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی مولانا فضل الرحمان کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر بھی غور جاری ہے، جس کے لیے 9 اور 10 نومبر کی تاریخیں زیر غور ہیں، تاہم حتمی تاریخ کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
ملاقات میں پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے رہنماؤں نے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔




