اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کاسمیٹکس کے شعبے میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے نیا قانون متعارف کرانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے پاکستان جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن کی ہدایت کی ہے۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر کامل علی آغا نے کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک ایسوسی ایشن کو خصوصی حیثیت نہیں دی جا سکتی اور قانون میں یہ تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ صرف ایک ہی ایسوسی ایشن رجسٹرڈ ہو سکتی ہے۔
وزارتِ قانون کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی ایسوسی ایشن کو قانون میں شامل کرنے سے پہلے اس کی رجسٹریشن کا معاملہ واضح ہونا ضروری ہے۔
اجلاس میں وزیرِ دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ مجوزہ بل سے کاسمیٹکس کے شعبے میں اسمگلنگ روکنے میں مدد ملے گی، جبکہ بورڈ میں کاسمیٹکس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کو نمائندگی بھی دی جائے گی۔
حکام کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت کاسمیٹکس تیار کرنے والوں اور درآمد کنندگان کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔ اجلاس میں بل کی بعض شقوں اور ایسوسی ایشن کے نام سے متعلق اعتراضات پر بھی غور کیا گیا۔




