اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ صورتحال سے متعلق فیصلہ حکومت کے لیے آسان نہیں تھا۔ وفاقی حکومت مسلسل کوشش کرتی رہی کہ خیبرپختونخوا حکومت کو اعتماد میں لے کر معاملات کو حل کیا جائے، تاہم ان کوششوں کے باوجود کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا۔
محسن نقوی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتیں کی گئیں اور رابطوں کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی تھی کہ معاملات کو مزید پیچیدہ ہونے سے پہلے بات چیت کے ذریعے حل کرلیا جائے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ آخری مرتبہ سہیل آفریدی سے رات پونے 12 بجے رابطہ کیا گیا۔ اس موقع پر انہیں پیغام دیا گیا کہ اب بھی وقت ہے اور موجودہ صورتحال کو ٹالا جاسکتا ہے، جبکہ معاملات کو بہتر بنانے کے لیے اب بھی کچھ کیا جاسکتا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے رابطے اور کوششیں جاری رہیں، لیکن دوسری جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق حکومت نے صورتحال کو ٹالنے اور کسی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے آخری وقت تک کوشش کی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے وفاقی حکومت نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بہتری کے لیے اقدامات ضروری ہیں، جبکہ اس معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔



