اختر مینگل کا کراچی میں مبینہ چھاپے اور دو افراد کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار
سابق رکنِ قومی اسمبلی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے سربراہ اختر مینگل نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کراچی میں عملے کے لیے کرائے گئے ایک اپارٹمنٹ پر مبینہ چھاپے اور وہاں موجود افراد کو حراست میں لینے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اختر مینگل کے مطابق گزشتہ شب ان کی رہائش گاہ کے قریب عملے کے لیے کرائے گئے ایک اپارٹمنٹ پر مبینہ طور پر انٹیلی جنس اداروں نے چھاپہ مارا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اپارٹمنٹ میں موجود تمام افراد کے موبائل فون ضبط کیے گئے اور انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بعض افراد کو بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔
اختر مینگل نے بتایا کہ ان کے منیجر اور ایک سیکیورٹی گارڈ تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کے مطابق حاجی رجب ولد عید محمد اور احمد ولد جمعہ کو تاحال رہا نہیں کیا گیا اور ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں افراد کے بارے میں فوری طور پر معلومات فراہم کی جائیں، ان کی خیریت کی تصدیق کی جائے اور انہیں بحفاظت واپس لایا جائے۔
اختر مینگل نے کہا کہ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام یا مقدمہ ہے تو اسے قانون کے مطابق شفاف اور قابلِ احتساب طریقۂ کار کے تحت پیش کیا جائے۔ انہوں نے زیرِ حراست افراد کو وکیل تک رسائی، اہلِ خانہ کو اطلاع اور تمام قانونی و آئینی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اپنے بیان میں اختر مینگل نے بلوچ شہریوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک، جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراست اور مبینہ تشدد کے معاملات پر سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی جواب طلب کیا اور واقعے کی فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ یہ تفصیلات اختر مینگل کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں سامنے آئی ہیں۔ واقعے سے متعلق متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔