سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد کیخلاف کریک ڈاؤن، لاکھوں یو آر ایل بلاک

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی، اشتعال انگیز اور قانون کے منافی مواد کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

پی ٹی اے کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 10 برسوں کے دوران مجموعی طور پر 15 لاکھ 42 ہزار 800 سے زائد یو آر ایل بلاک کیے گئے، جبکہ قابلِ اعتراض مواد کے خلاف کارروائی کی مجموعی کامیابی کی شرح 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اخلاقیات کے منافی مواد پر مشتمل 10 لاکھ 65 ہزار سے زائد یو آر ایل بند کیے گئے۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں فیس بک کے 2 لاکھ 30 ہزار، ٹک ٹاک کے 1 لاکھ 70 ہزار، اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے 74 ہزار سے زائد لنکس بلاک کیے گئے۔

اسی طرح یوٹیوب پر 66 ہزار سے زائد یو آر ایل بند کیے گئے، جہاں بلاکنگ کی شرح 88.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ علاوہ ازیں واٹس ایپ کے 50 ہزار اور انسٹاگرام کے 45 ہزار سے زائد یو آر ایل بھی بلاک کیے گئے۔

پی ٹی اے کے مطابق دہشت گردی سے متعلق 1 لاکھ 41 ہزار سے زائد، قومی سلامتی اور دفاع کے خلاف 74 ہزار سے زائد، جبکہ اسلام مخالف مواد پر مشتمل 1 لاکھ 12 ہزار 482 یو آر ایل بھی بند کیے جا چکے ہیں۔

مزید برآں فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد کے 52 ہزار سے زائد یو آر ایل بلاک کیے گئے، جبکہ پراکسی ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کے دوران 99.99 فیصد ایسے لنکس کو بند کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق زیرِ جائزہ مدت میں پی ٹی اے نے 17 لاکھ سے زائد عوامی شکایات پر کارروائی کی، 76 ہزار سے زائد شکایات تاحال زیرِ جائزہ ہیں، جبکہ ایک لاکھ سے زائد درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں