اسلام آباد: سینئر صحافی، کالم نگار اور تجزیہ کار اوریا مقبول جان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ مستونگ میں شہید ہونے والے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ نے تربت کے بالاچ مولابخش کیس میں سی ٹی ڈی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
اوریا مقبول جان کے مطابق، اس فیصلے کے بعد بلوچستان میں شدید احتجاج کا آغاز ہوا، جو بعد ازاں اسلام آباد میں تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے دھرنے پر منتج ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ جج عبدالحکیم کاکڑ نے قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کیا، تاہم انہیں اس فیصلے کی قیمت اپنی جان کی صورت میں چکانا پڑی۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر لکھا: “باہمت اور منصف افراد کی اب عدالتی نظام میں ضرورت نہیں ہے۔”یہ بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے تبصرے اور بحث جاری ہے۔ تاہم، اوریا مقبول جان کے اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید نہیں کی گئی، اور نہ ہی متعلقہ اداروں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے۔




