وسائل سے مالا مال بلوچستان، مگر نوجوان روزگار سے محروم جواد ہزارہ

بلوچستان آج صرف ایک صوبہ نہیں بلکہ ایک ایسے سنگین بحران کی تصویر بن چکا ہے جہاں ہر دروازہ بند دکھائی دیتا ہے۔ فارم 47 کی بنیاد پر قائم یہ حکومت اپنی اخلاقی حیثیت بھی کھو چکی ہے اور عملی طور پر بھی مکمل ناکامی کا شکار ہو چکی ہے۔ اقتدار کے ایوان عوام سے کٹ چکے ہیں، جبکہ اپوزیشن اور حکومت میں کوئی واضح فرق باقی نہیں رہا—دونوں ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر عوامی مسائل سے نظریں چرا رہے ہیں۔
آج بلوچستان میں زندگی کے بنیادی راستے بند ہو چکے ہیں۔
کاروبار بند ہیں، بازار سنسان ہیں اور سرمایہ کاری ختم ہو چکی ہے۔
تعلیمی ادارے بند یا تباہ حالی کا شکار ہیں، جہاں علم کی روشنی کے بجائے مایوسی بڑھ رہی ہے۔
دفاتر بند یا غیر فعال ہیں، جہاں عوامی خدمت کے بجائے صرف رسمی کارروائیاں رہ گئی ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر روزگار کے دروازے مکمل طور پر بند ہیں—لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے دربدر پھر رہے ہیں۔
یہ نوجوان بلوچستان کا مستقبل تھے، مگر آج یہی مستقبل مایوسی، محرومی اور بے بسی کی علامت بن چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے پانچ ہزار آسامیوں کا اعلان بھی زمینی حقائق کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہے۔ جب لاکھوں نوجوان بےروزگار ہوں تو چند ہزار نوکریاں کسی حل کا نام نہیں بلکہ ایک عارضی اور نمائشی اقدام محسوس ہوتی ہیں، جو مسئلے کی سنگینی کو کم کرنے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
سوال یہ ہے کہ کب تک بلوچستان کے نوجوانوں کو اس طرح نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟ کب تک ان کے حقِ روزگار کو دبایا جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ وسائل سے مالا مال اس صوبے کے لوگ آج اپنے ہی حق سے محروم ہیں—یہ صرف نااہلی نہیں بلکہ ایک منظم ناانصافی ہے۔
حکومت کی خاموشی اور اپوزیشن کی بے حسی اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کے مسائل کسی کی ترجیح نہیں رہے۔ سیاست صرف اقتدار کے گرد گھوم رہی ہے جبکہ نوجوان اپنے مستقبل کے لیے پریشان اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ خاموشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی—یہ محرومی کسی بڑے ردعمل میں بدل سکتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ نمائشی اعلانات اور وقتی اقدامات کو ترک کیا جائے۔
کاروبار بحال کیے جائیں، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔
تعلیمی اداروں کو فعال بنایا جائے تاکہ نئی نسل کو امید ملے۔
دفاتر کو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا مرکز بنایا جائے۔
اور سب سے بڑھ کر، نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے جائیں، میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور وسائل پر پہلا حق مقامی لوگوں کو دیا جائے۔
یہ صرف ایک آواز نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے—
اگر آج بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو کل تاریخ یہ لکھے گی کہ ایک پوری نسل کو بند دروازوں، ٹوٹے خوابوں اور سیاسی بے حسی کے حوالے کر دیا گیا۔
بلوچستان کے عوام خاموش ضرور ہیں، مگر یہ خاموشی ہمیشہ نہیں رہے گی۔
جب یہ آواز بنے گی تو ایک طوفان ہوگا—اور پھر کوئی بھی اسے روک نہیں سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں