صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر پر حملہ، 11 پاکستانیوں سمیت عملہ یرغمال

صومالیہ کے قریب سمندر میں ایک آئل ٹینکر پر مبینہ بحری قزاقوں کے حملے کے بعد 11 پاکستانیوں سمیت جہاز کے عملے کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ کراچی میں مغویوں کے اہل خانہ شدید اضطراب کا شکار ہیں اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صومالیہ کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں بحری قزاقوں نے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا اور اس پر سوار عملے کو یرغمال بنا لیا۔ اطلاعات کے مطابق مغوی عملے میں 11 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر ممالک کے افراد بھی قزاقوں کی قید میں ہیں۔

کراچی میں مغویوں کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے حکومت پاکستان سے فوری اور مؤثر اقدامات کی اپیل کی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہیں اور ہر لمحہ اپنے عزیزوں کی خیریت کے منتظر ہیں۔

مغویوں کے اہل خانہ کے مطابق بحری قزاقوں نے رہائی کے بدلے تاوان کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ایک مغوی پاکستانی کی بیٹی نے روتے ہوئے اپیل کی کہ “مجھے میرے پاپا واپس لا دیں”، جبکہ ایک مغوی کی اہلیہ نے بتایا کہ دو روز قبل آخری بار بات ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ شدید مشکل میں ہیں اور شاید واپس نہ آ سکیں۔

اہل خانہ کے مطابق ایک پاکستانی مغوی اپنے چار ماہ کے بیٹے کو دیکھ بھی نہیں سکا، جس پر گھر والوں کی حالت غیر ہو چکی ہے۔

اُدھر بحری قزاقوں کی قید میں موجود ایک پاکستانی شہری سید کاشف کا آڈیو پیغام بھی موصول ہوا ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ شدید پریشانی میں ہیں اور مسلح افراد نے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر 11 پاکستانیوں کے علاوہ کچھ بھارتی اور انڈونیشی شہری بھی موجود ہیں۔

آڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں نہیں معلوم ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے، کھانا بھی ختم ہو چکا ہے، حکومت ہماری مدد کرے اور ہماری زندگیاں بچائے۔‘‘

دوسری جانب جہاز بھیجنے والی ایجنسی اور متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا، جس پر اہل خانہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے ہیں۔

واقعے کے بعد کراچی سمیت مختلف علاقوں میں مغویوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے دعاؤں اور حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں