کوئٹہ (اولس نیوز ) کوئٹہ جعفر ایکسپریس، جو بلوچستان کو ملک کے دیگر شہروں سے ملانے والی اہم ٹرین سمجھی جاتی ہے، آج اپنی سروس انجام نہ دے سکی اور اسے منسوخ کر دیا گیا۔
ریلوے حکام کے مطابق ٹریک کی ہنگامی مرمت کے باعث یہ فیصلہ کرنا پڑا، تاہم اسٹیشن پر موجود مسافروں میں شدید مایوسی دیکھی گئی۔ اسی دوران پشاور سے آنے والی ٹرین کو بھی جیکب آباد میں روک دیا گیا، جس سے سفر کرنے والوں کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔
متاثرہ مسافر گھنٹوں انتظار کرتے رہے، کئی افراد اپنے اہلِ خانہ کو اطلاع دیتے رہے کہ وہ بروقت منزل تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ تعطل عارضی ہے اور سروس جلد بحال کر دی جائے گی، مگر اس اچانک فیصلے نے لوگوں کے شیڈول متاثر کر دیے۔
اسٹیشن پر ٹکٹ رکھنے والے مسافر معلومات کے لیے قطاروں میں کھڑے دکھائی دیے۔ ایک بزرگ مسافر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کافی عرصے بعد اپنے عزیزوں سے ملنے جا رہے تھے، لیکن اچانک ٹرین بند ہونے سے ان کا منصوبہ متاثر ہو گیا۔
دوسری جانب ایک طالب علم نے بتایا کہ وہ امتحان کے سلسلے میں سفر کر رہا تھا، مگر اب متبادل انتظام کرنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ بسوں میں بھی رش اور کرایوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ بعض سڑکیں بھی بند ہیں۔
ادھر جیکب آباد میں رکی ٹرین کے مسافر مزید پریشان نظر آئے، جہاں کچھ لوگ پلیٹ فارم پر انتظار کرتے رہے جبکہ کچھ نے ٹرین کے اندر ہی وقت گزارا۔ ریلوے عملہ صرف مرمت مکمل ہونے کی یقین دہانیاں کراتا رہا۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف ایک ٹرین تک محدود نہیں، بلکہ دیگر روٹس پر بھی سروسز متاثر ہو رہی ہیں، جس سے خاص طور پر بلوچستان کے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق پرانے ٹریک، خراب انفراسٹرکچر اور موسمی حالات کے باعث مرمت کا عمل بار بار ضروری ہو جاتا ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات مسافروں کی حفاظت کے لیے کیے جاتے ہیں۔
تاہم مسافروں کا کہنا ہے کہ ہر بار سروس بند کرنا حل نہیں، بلکہ متبادل سفری سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ ریلوے حکام نے یقین دہانی کروائی ہے کہ متاثرہ افراد کو رقم واپس کی جائے گی اور سروس جلد بحال ہو جائے گی، لیکن عوام اس سے مطمئن نظر نہیں آتے۔
انتظامیہ نے مرمتی کام تیز کرنے کا اعلان کیا ہے اور مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تازہ معلومات کے لیے ہیلپ لائن یا آن لائن سسٹم سے رابطے میں رہیں۔




