آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، 5 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ ختم کردی گئی

لاہور کے لیڈی ولنگڈن اسپتال میں آپریشن تھیٹر سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے ہلچل مچا دی، جس کے بعد پنجاب حکومت نے بڑا ایکشن لیتے ہوئے 5 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ ختم کر دی۔

محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر پنجاب نے لیڈی ولنگڈن اسپتال میں پیش آنے والے واقعے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے 5 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر ختم کر دی۔

یہ اقدام پالیسی اینڈ پروسیجر مینوئل کی شق 13.2 کے تحت غفلت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اٹھایا گیا۔

متاثرہ ڈاکٹرز میں ڈاکٹر طیبہ فاطمہ، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر آمنہ رشید شامل ہیں، جبکہ معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کو بھی بھجوا دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب کے شہر لاہور کے معروف لیڈی ولنگڈن اسپتال میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جس نے طبی شعبے کی اخلاقیات پر سوالات کھڑے کر دیے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’سی سیکشن‘ آپریشن کے دوران دو ڈاکٹرز ٹیموں کے درمیان مبینہ مقابلہ جاری تھا کہ کون پہلے سرجری مکمل کرتا ہے۔

ویڈیو میں دو الگ آپریشن ٹیبلز پر حاملہ خواتین موجود تھیں اور ان کے گرد ڈاکٹرز کی ٹیمیں کام کر رہی تھیں، جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان ایک پردہ حائل تھا۔ اس دوران نہ صرف ویڈیو بنائی گئی بلکہ قہقہے بھی لگائے گئے اور مریضوں کے وقار کا خیال نہیں رکھا گیا۔

ویڈیو میں یہ بھی سنا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹرز ایک دوسرے کو جلدی آپریشن مکمل کرنے کا کہہ رہے ہیں اور ایک ڈاکٹر کو بطور ’جج‘ بھی مقرر کیا گیا تھا۔ ایک آواز میں کہا گیا کہ ’’یہاں فل مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سیکشن کرتا ہے، ڈاکٹر عائشہ یا ڈاکٹر طیبہ‘‘، جس کے بعد قہقہے سنائی دیتے ہیں۔

ویڈیو بنانے والی خواتین ڈاکٹرز نے کیمرہ اپنی طرف کر کے خود کو ٹیموں کا حمایتی بھی ظاہر کیا، جبکہ پس منظر میں نومولود بچوں کے رونے کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں