افغانستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوانوں نے مشترکہ طور پر ایک نئی تنظیم “نیشنل موبلائزیشن فرنٹ” (این ایم ایف) کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد ملک میں موجودہ صورتحال کے خلاف مزاحمت اور عوامی حقوق کا تحفظ ہے۔
تنظیم کے ترجمانوں کے مطابق این ایم ایف خود کو ایک مزاحمتی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتی ہے، جو ان کے بقول طالبان حکومت کی پالیسیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں امن، استحکام اور بنیادی انسانی حقوق کے فروغ کے لیے سرگرم ہونا چاہتے ہیں۔
این ایم ایف کا مؤقف ہے کہ طالبان عوام کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے، جبکہ تنظیم خود کو عوامی آواز کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث اس طرح کے اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔
تنظیم کے بعض رہنماؤں نے ماضی کے تناظر میں یہ بھی کہا کہ جیسے سابقہ ادوار میں مختلف قوتوں کے خلاف مزاحمت کی گئی، اسی طرح موجودہ حالات میں بھی جدوجہد ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مختلف حلقوں میں رائے مختلف پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب، افغانستان کی موجودہ حکومت (طالبان) کی جانب سے اس تنظیم یا اس کے دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق ملک کی صورتحال پیچیدہ ہے اور مختلف گروہوں کی سرگرمیاں خطے کے امن و استحکام پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کے درمیان بات چیت، سیاسی عمل اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔




