کوئٹہ(اولس نیوز ) کوئٹہ آئی جی پولیس بلوچستان نے سابق نگران وزیر اعلیٰ میر علی مردان ڈومکی اور دیگر سیاسی شخصیات کے ساتھ تعینات اضافی پولیس نفری واپس لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق نگران وزیر اعلیٰ میر علی مردان ڈومکی کے ساتھ تعینات 5 پولیس اہلکاروں میں سے 3 کو واپس بلا لیا گیا ہے، جبکہ نواب چنگیز مری سے 42 پولیس اہلکاروں میں سے 34 کو واپس لے لیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہر ایم این اے اور ایم پی اے کے ساتھ 100 سے زائد سرکاری گارڈز تعینات ہیں۔
اسی حوالے سے سنٹرل پولیس آفس بلوچستان نے اراکینِ پارلیمنٹ، سابق وزراء اور سیاسی شخصیات کو فراہم کی گئی سرکاری سیکیورٹی سے متعلق تمام اضلاع سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سنٹرل پولیس آفس کے مطابق گن مینوں کی واپسی سے متعلق ہدایات 29 جنوری 2025 کو جاری کی جا چکی تھیں، تاہم متعدد اضلاع کی جانب سے تاحال مطلوبہ رپورٹس موصول نہیں ہوئیں۔
جاری مراسلے میں آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی پولیس رینجز اور مختلف اضلاع کے ایس ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اراکینِ پارلیمنٹ اور دیگر شخصیات کو فراہم کیے گئے اضافی گن مینوں اور سرکاری سیکیورٹی نفری کی مکمل تفصیلات ارسال کریں اور 6 فروری 2026 تک رپورٹ جمع کروائیں۔
دستاویز کے مطابق صوبائی وزیر علی حسن زہری، سینیٹر ثمینہ زہری، سابق وزیر داخلہ ضیاء لانگو، سابق چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی، نواب چنگیز مری، سابق نگران وزیر اعلیٰ میر علی مردان ڈومکی اور دیگر سیاسی شخصیات کو مختلف اضلاع میں پولیس، بلوچستان کانسٹیبلری اور اے ٹی ایف کے اہلکار بطور سیکیورٹی تعینات ہیں، جن میں سے بڑی تعداد کو واپس بلانے کی سفارش کی گئی ہے۔
سنٹرل پولیس آفس کے مطابق غیر ضروری اور اضافی سیکیورٹی نفری کی واپسی صوبے میں دستیاب وسائل کے بہتر استعمال کے لیے ضروری ہے، جبکہ تاخیر کرنے والے اضلاع کے خلاف کارروائی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔




