قلعہ عبداللہ میں باپ بیٹے کے قتل کے خلاف پشتونخوا میپ کا چمن میں احتجاجی مظاہرہ

چمن: ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے کلی تنگ مسے زئی میں حنفیاء کاکڑ اور ان کے بیٹے ولی کاکڑ عرف ولو کے قتل کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام چمن میں احتجاجی ریلی اور دھرنا دیا گیا۔

احتجاجی ریلی پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ سے شروع ہوئی، جس میں چمن کی تینوں تحصیلوں، مختلف علاقائی و ابتدائی یونٹوں کے کارکنوں سمیت مرکزی، صوبائی اور ضلعی رہنماؤں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے تاج روڈ پر گشت کیا اور احتجاجی دھرنا دیا۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں ناظم صلاح الدین اچکزئی، حاجی جمال خان اچکزئی، شیر علی خان، ظریف خان اور دیگر مقررین نے کہا کہ ضلع قلعہ عبداللہ میں مسلح گروہوں، اغوا کاروں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور عدم تحفظ کا سامنا ہے۔

مقررین نے الزام عائد کیا کہ عام شہریوں کو 25 چیک پوسٹوں سے گزرنے کے دوران تلاشی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جبکہ ان کے بقول مسلح گروہ آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے علاقے میں نجی مسلح گروہوں کی موجودگی اور مبینہ سرپرستی پر بھی سوالات اٹھائے۔

پارٹی رہنماؤں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کلی تنگ مسے زئی میں باپ بیٹے کے قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے اور ضلع قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور علاقے میں امن کے قیام کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

احتجاج کے اختتام پر مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں