کوئٹہ: چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل نے کہا ہے کہ موٹ کورٹ کے ذریعے طلبہ میں تنقیدی سوچ، قانونی فہم اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے موٹ کورٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمی طلبہ کو عملی قانونی ماحول سے روشناس کرانے اور عدالت میں دلائل پیش کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
موٹ کورٹ میں طلبہ فرضی مقدمات کے ذریعے قانونی نکات پر بحث کرتے ہیں، شواہد کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنے دلائل پیش کرنے کی مشق کرتے ہیں۔ اس عمل سے ان کی تحقیق، تجزیے اور مؤثر ابلاغ کی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کے بیان کے مطابق ایسی سرگرمیاں مستقبل کے وکلا کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔




