اسلام آباد (اولس نیوز):خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو ایمرجنسی کے اعلان کی مدت کے دوران آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں پاک فوج کے دستوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔
حکم نامے کے مطابق پاک فوج کی تعیناتی کا مقصد شہریوں کی جان و مال اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا، جی ایچ کیو سے مشاورت کے بعد فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے۔
صدر مملکت نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی سمری پر دستخط کر دیے
صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں دونوں آئینی اقدامات کی منظوری دی تھی۔
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے صدر مملکت کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ایڈوائس ارسال کی گئی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور طلال چوہدری سمری لے کر ایوان صدر پہنچے تھے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے جائیں گے، جن میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ شامل ہے۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ کو خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے کردار اور وفاق کے ساتھ تعاون سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔
وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دی، جس کے بعد آئینی طریقہ کار کے تحت سمری صدر مملکت کو بھجوائی گئی۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی نوبت کیوں آئی؟
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور مؤثر اقدامات کی خواہاں تھی، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت اس معاملے پر مشاورت اور اتفاق رائے پر زور دیتی رہی۔
اسی سیاسی کشیدگی کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا۔ تاہم مارچ سے دو روز قبل احتجاج کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرتے ہوئے 5 اکتوبر کو مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اس دوران پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور ہوئے، جن میں دونوں فریقین نے اپنے اپنے مطالبات پیش کیے۔ تاہم مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا اور بات چیت ناکام ہوگئی۔
مذاکرات میں کن مطالبات پر اختلاف رہا؟
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قانونی حقوق اور طبی سہولیات فراہم کرنا، دونوں کو اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت دینا اور خواتین، بزرگوں اور بیمار قیدیوں کے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ختم کرنا شامل تھا۔
مطالبات میں یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی سمیت سیاسی خواتین کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
دوسری جانب وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور متاثرہ اضلاع میں آپریشنز کے حوالے سے صوبائی حکومت کی معاونت اور حمایت چاہتی تھی۔ ان معاملات پر دونوں حکومتوں کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان مشاورت ہونی چاہیے اور دونوں حکومتیں 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس بلا کر مشترکہ حکمت عملی مرتب کریں۔
تاہم دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے، جس کے باعث مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار رہا۔
لانگ مارچ، مذاکرات کی ناکامی اور گورنر راج کا فیصلہ
مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد لانگ مارچ منسوخ کرنے کی شرط پر دوبارہ مذاکرات کی پیشکش کی۔ تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کردہ تاریخ پر 4 اکتوبر کو لانگ مارچ شروع کر دیا، جس کے بعد سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔
مذاکرات میں ناکامی کے بعد حکومتی حلقوں میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بحث شروع ہوگئی۔ اس معاملے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کے درمیان متعدد ملاقاتیں بھی ہوئیں۔
اب ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق سمری پر صدر مملکت کے دستخط اور پاک فوج کی تعیناتی کے حکم نامے کے اجرا کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی اور انتظامی صورتحال ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ آئندہ دنوں میں صوبائی انتظامی معاملات، امن و امان اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعلقات پر ان فیصلوں کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔




