پچھلے ایک سال سے یونین کونسل کنچوغی میں 100 سے زائد بچے استاد نہ ہونے کے باعث تعلیم سے محروم

مسلم باغ ( اولس نیوز )‌ اہلِ علاقہ کلی آزردبک، یونین کونسل کنچوغی، تحصیل مسلم باغ، ضلع قلعہ سیف اللہ نے حکومت بلوچستان اور محکمہ تعلیم کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کلی آزردبک گزشتہ کئی ماہ سے اساتذہ کی شدید کمی کا شکار ہے، جس کے باعث 100 سے زائد بچوں کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

اہلِ علاقہ کے مطابق اگست 2025 سے اسکول میں صرف ایک استاد، علاءالدین صاحب، تعینات تھے جو انتہائی ایمانداری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے تھے، مگر افسوس کہ انہیں بھی مبینہ طور پر سیاسی سفارش پر ٹرانسفر کر دیا گیا۔ ان کے تبادلے کے بعد آج تک اسکول میں کوئی نیا استاد تعینات نہیں کیا گیا، جس سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہیں۔

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان بارہا دعویٰ کرتے ہیں کہ صوبے کے سرکاری اسکول فعال ہیں اور تعلیمی نظام بہتر ہو رہا ہے، مگر کلی آزردبک جیسے علاقوں کی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس ہے۔ اگر سرکاری اسکول واقعی فعال ہیں تو ایک پورا اسکول بغیر استاد کے کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟

اہلِ علاقہ نے مزید کہا کہ بچوں کی تعلیم کو سیاسی مداخلت کی نذر کرنا افسوسناک عمل ہے۔ دیہی علاقوں کے معصوم بچوں کو بنیادی حقِ تعلیم سے محروم رکھنا ناانصافی ہے۔

اہلِ علاقہ نے حکومت بلوچستان، محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ قلعہ سیف اللہ اور متعلقہ حکام سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ:

گورنمنٹ پرائمری اسکول کلی آزردبک میں ہنگامی بنیادوں پر کم از کم دو اساتذہ تعینات کیے جائیں۔

بچوں کی تعلیم کو سیاسی مداخلت سے محفوظ بنایا جائے۔

دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اہلِ علاقہ نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں