کوئٹہ کے علاقے فقیر محمد روڈ پر 8 مئی کی رات ڈکیتی کی سنگین واردات نے شہریوں کی سیکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق پانچ مسلح ڈاکو خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے، اہل خانہ کو یرغمال بنایا اور لاکھوں روپے نقدی، زیورات اور قیمتی سامان لوٹ کر باآسانی فرار ہوگئے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پانچ روز گزر گئے مگر پولیس تاحال نہ ملزمان گرفتار کر سکی اور نہ ہی متاثرہ خاندان کو کسی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر شہری اپنے ہی گھروں میں محفوظ نہیں تو پھر پولیس کی گشت، چیکنگ اور سیکیورٹی دعوے صرف کاغذوں تک کیوں محدود ہیں؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈاکو نہ صرف واردات کرکے فرار ہوگئے بلکہ جاتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے، مگر پولیس کی خاموشی نے عوام میں خوف اور بے اعتمادی مزید بڑھا دی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس بلوچستان اور وزیر داخلہ بلوچستان فوری نوٹس لیں، ملزمان کو گرفتار کریں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کریں، کیونکہ عوام اب صرف بیانات نہیں بلکہ عملی کارروائی چاہتے ہیں۔
کوئٹہ: پولیس بن کر آنے والے ڈاکوؤں نے لاکھوں روپے نقدی اور زیورات لوٹ کر باآسانی فرار ہوگئے


