ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش پر تباہ کن جواب دینے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکا اس کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ سخت کارروائی کرے گا۔ دوسری طرف ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ سے ایک قطرہ تیل بھی باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔

پیر کے روز پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو امریکا ایسا شدید حملہ کرے گا جس کے بعد ایران یا اس کے حامی دوبارہ سنبھل نہیں سکیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 51 بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس کی میزائل اور ڈرون صلاحیت اب صرف 10 فیصد رہ گئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق آئندہ حملوں میں لیزر ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جو پیٹریاٹ میزائل کے مقابلے میں کم خرچ ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم رکھنے کے لیے کچھ پابندیاں نرم کی جا رہی ہیں، جبکہ ایران کی ڈرون بنانے والی فیکٹریوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں بھی یہی مؤقف دہرایا اور کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا اس کے خلاف اب تک کے حملوں سے 20 گنا زیادہ سخت ردعمل دے گا۔ ان کے مطابق یہ انتباہ عالمی تجارت اور ان ممالک کے مفاد میں ہے جو خلیجی ریاستوں سے تیل حاصل کرتے ہیں، جن میں چین بھی شامل ہے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمد مکمل طور پر روک دی جائے گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کا ایک نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل گزرتا ہے۔

جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بند ہو چکی ہے اور ایک ہفتے سے زائد عرصے سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت معطل ہے۔ ذخیرہ گاہیں بھر جانے کے سبب کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک کو عارضی طور پر پیداوار روکنا پڑ رہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی اور میزائل حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ایران کے نائب وزیر صحت علی جعفریان کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم 1255 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں 200 بچے بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں