بلوچستان پولیس میں سینیارٹی اور میرٹ کی پامالی پر شدید تحفظات

کوئٹہ(اولس نیوز ) کوئٹہ سینٹرل پولیس آفس بلوچستان سے جاری حالیہ تعیناتی کے احکامات نے محکمہ پولیس کے اندر شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بلوچستان پولیس میں محض دو سال قبل، یعنی 2024ء میں بطور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ترقی پانے والے ایک افسر کو، سینیارٹی لسٹ میں آخری نمبروں پر ہونے کے باوجود، صوبائی دارالحکومت میں بطور قائم مقام سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تعینات کر دیا گیا ہے۔
یہ امر قابلِ غور ہے کہ گریڈ 18 کے متعدد باصلاحیت، تجربہ کار اور باقاعدہ پی ایس پی افسران سینٹرل پولیس آفس میں او ایس ڈی کی حیثیت سے تعیناتی کے منتظر ہیں۔ ایسے میں ایک جونیئر افسر کی اہم اور حساس عہدے پر تعیناتی نہ صرف سینیارٹی اور میرٹ کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اس سے محکمہ پولیس کے اندر بے چینی اور اضطراب میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
پولیس جیسے نظم و ضبط کے حامل ادارے میں سینیارٹی، قابلیت، پیشہ وارانہ مہارت اور تجربے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اگر سینئر افسران دستیاب نہ ہوتے تو سینیارٹی لسٹ کے مطابق سینئر موسٹ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو قائم مقام چارج دینا کسی حد تک قابلِ فہم فیصلہ ہو سکتا تھا۔ تاہم سینیارٹی لسٹ میں سیریل نمبر 214 پر موجود افسر کو براہِ راست دارالحکومت میں بطور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تعینات کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا سینیارٹی لسٹ میں شامل دیگر 213 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس نااہل ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کیوں عمل میں نہیں لائی جاتی؟ بصورت دیگر یہ فیصلہ میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔
عوامی اور انتظامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کریں کہ سینئر افسران کی موجودگی میں ایک جونیئر افسر کو کس بنیاد پر اس اہم عہدے پر تعینات کیا گیا۔
شفافیت، میرٹ اور سینیارٹی کے اصولوں کی پاسداری ہی کسی بھی ادارے کی مضبوطی اور وقار کی ضامن ہوتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے ادارے کے اندر پائی جانے والی بے چینی کا ازالہ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں