ایک سو پینتالیس دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس ہے، سرفراز بگٹی

کوئٹہ میں دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، کسی صورت پسپائی نہیں ہوگی — وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ(اولس نیوز )وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن کے قیام کیلئے سیکیورٹی ادارے بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں اور دہشتگرد عناصر کے خلاف آپریشنز انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر جاری ہیں۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریاست کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں اور دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر بیرونی حمایت سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دہشتگرد کارروائیوں میں عام شہریوں،

انہوں نے بتایا کہ حالیہ دہشتگردی کے خطرے سے متعلق اداروں کے پاس پیشگی معلومات موجود تھیں، جس کے باعث کارروائیاں پہلے ہی شروع کردی گئی تھیں۔ ان کے مطابق کالعدم بی ایل اے کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک مسلح تنظیم ہے، جس کے خلاف ریاستی قانون کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔

خصوصاً خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جبکہ بعض واقعات میں کم عمر بچوں کو بطور ڈھال استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی کسی قومیت کے خلاف نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ہے۔ ان کے بقول، “دہشتگردوں کا کسی قبیلے یا قوم سے تعلق نہیں جو انہیں عوام کی نمائندگی کا حق دے سکے۔” انہوں نے زور دیا کہ بلوچ عوام کو تشدد کی راہ پر دھکیلنے کی کوششیں ناکام بنائی جائیں گی۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے حالیہ کارروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے اور متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کو بھی کارروائیوں میں مددگار قرار دیا۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کیخلاف سرگرمیوں میں سرحد پار سے سہولت کاری کے خدشات موجود ہیں، تاہم پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے طویل المدتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور ریاست کی رٹ ہر صورت قائم رکھی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں