واشک میں صحت کے نظام کی لوٹ مار: ڈی ایچ او سرکاری ادویات فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا

بلوچستان کے پسماندہ ضلع واشک میں صحت کے شعبے سے جڑا ایک اور سنگین کرپشن اسکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع واشک کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اکبر روڈ المعروف غفار کو سرکاری ادویات کو غیرقانونی طور پر فروخت کرنے کی کوشش کے دوران پولیس نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نیو سریاب تھانے کی حدود میں کارروائی کے دوران ڈی ایچ او کو سرکاری گاڑی میں کوئٹہ منتقل کی جانے والی 30 کاٹن قیمتی سرکاری ادویات کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ ضبط کی گئی ادویات کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو واشک جیسے پسماندہ ضلع کے غریب مریضوں کے لیے مختص تھیں۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ ڈی ایچ او واشک مبینہ طور پر ہر ماہ سرکاری ادویات بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آ چکی ہے جس میں انہیں قلات سے ایمبولینس کے ذریعے ادویات کوئٹہ منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، مگر اس کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ افسر کو اس سے قبل ضلع زیارت میں کرپشن ثابت ہونے پر گریڈ 18 سے گریڈ 17 میں تنزلی کی سزا دی جا چکی ہے، تاہم اس کے باوجود وہ بدستور کرپشن کے دھندے میں ملوث رہے۔

واقعے نے ایک بار پھر بلوچستان میں صحت کے نظام، احتساب اور غریب عوام کے حقوق پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں