کوئٹہ (اولس نیوز) کوئٹہ میں نجی ہیلتھ سینٹر سے نومولود بچے کی تبدیلی کا انکشاف ایک سنگین سوال چھوڑ گیا ہے کہ کیا انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ واقعے کے بعد محکمہ صحت کا چوبیس گھنٹے تک خاموش رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظام یا تو مفلوج ہو چکا ہے یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ ایسے حساس معاملے میں تاخیر محض غفلت نہیں بلکہ مجرمانہ لاپرواہی کے زمرے میں آتی ہے۔ نجی اسپتالوں کو بغیر کسی مؤثر چیک اینڈ بیلنس کے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے جہاں منافع کو انسانیت پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ متاثرہ والدین انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جبکہ ذمہ داروں کے خلاف عملی کارروائی نظر نہیں آتی۔ صرف نوٹس لینے سے حقائق نہیں بدلتے اور نہ ہی سچ دبایا جا سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس سنگین واقعے کا ذمہ دار کون ہے، اب تک کتنے ایسے کیسز دبائے جا چکے ہیں اور کیا غریب کا بچہ واقعی اس نظام میں محفوظ ہے۔ اگر آج اس ناانصافی کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو کل یہی سانحہ کسی اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔
کوئٹہ: نجی ہیلتھ سینٹر میں نومولود بچے کی تبدیلی، محکمہ صحت کی غفلت یا مجرمانہ لاپرواہی؟




