وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چینی جدید ٹیکنالوجی سے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے میں مدد ملے گی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں موجود بین الاقوامی میڈیکل سینیٹر اور چین پاکستان جوائنٹ لیب جیسے منصوبوں کو مزید فعال بنایا جائے اور اس ضمن میں چین اور پاکستان کی مابین شراکت داری کو مزید توسیع دی جائے۔
اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورہ چین کے دوران تیانجن یونیورسٹی میں نیشنل ارتھ کوئیک سمولیشن سینٹر کا دورہ کیا، نیشنل ارتھ کوئیک سیمولیشن سینٹر میں وزیراعظم کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو ٹیکنالوجیز بشمول نئی تیار کردہ میڈیکل ریسکیو گاڑیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم کو قدرتی آفات کے لیے احتیاطی تدابیر کے لیے تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چین اور پاکستان کے تعاون سے اس ضمن میں کئی منصوبے موجود ہیں اور متعدد پر کام جاری ہے۔
ان منصوبوں میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیئیٹیو کے تحت تعمیر شدہ چائنا پاکستان جوئنٹ لیب فار ڈزاسٹر اینڈ ایمرجنسی میڈیسن، بین الاقوامی میڈیکل کواپریشن سینٹر، چین پاکستان فرینڈشپ ہسپتال اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔
وزیر اعظم نے چین کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تعریف کی اور کہا کہ چین میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی اور طریقے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہوں گے، اس ضمن میں چینی مہارت سے مستفید ہونے سے پاکستان میں مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر احتیاطی تدابیر اور لائحہ عمل استعمال کیے جا سکیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں موجود بین الاقوامی میڈیکل سینیٹر اور چین پاکستان جوئنٹ لیب جیسے منصوبوں کو مزید فعال بنایا جائے اور اس ضمن میں چین اور پاکستان کی مابین شراکت داری کو مزید توسیع دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر بھرپور کوششیں جاری ہیں، نارووال، سیالکوٹ، وزیر آباد، حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ میں حالیہ سیلابی صورتحال سے متاثرہ خاندانوں کے لیے آج اضافی امدادی سامان کے قافلے وفاقی حکومت کی جانب سے بھیجے جا چکے ہیں جو کہ صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو ملک میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر پنجاب حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں رہنے اور صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیوں کو بھرپور تعاون فراہم کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
وزیراعظم کی تیانجن یونیورسٹی میں زیرتعلیم پاکستانی طلبہ سے ملاقات
بعدازاں وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے دورہ چین کے دوران تیانجن یونیورسٹی میں زیرتعلیم پاکستانی طلبہ سے ملاقات کی، جہاں انہیں جامعہ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ تیانجن یونیورسٹی کا شمار چین کی قدیم درسگاہوں میں ہوتا ہے، یونیورسٹی میں آرٹس اور طب کی اعلیٰ تعلیم دی جارہی ہے، یونیورسٹی کا چین کی صنعتی و سائنسی ترقی میں کردار اہم ہے، پاکستان اور چین کے طلبہ میں یونیورسٹی پل کا کردار ادا کررہی ہے۔
وزیراعظم کا خطاب
اس موقع پر وزیراعظم شہبازشریف نے تیانجن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیانجن یونیورسٹی میں موجودگی میرے لیے باعث فخر ہے، پہلی مرتبہ 2017 میں تیانجن یونیوسٹی کا دورہ کیا، تیانجن یونیورسٹی علم و دانش کی بہترین درس گاہ ہے، یونیورسٹی نے بہترین سائنسدان اور مفکر تیار کیے ہیں۔
وزیراعظم کے بقول طلبہ نے چین کی ترقی کے سفر میں عظیم کردار ادا کیا، 200 سے زائد پاکستانی طلبہ تیانجن یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں، پاکستانی طلبہ اس عظیم درس گاہ سے جدید تعلیم سے آراستہ ہوں، پاکستانی طلبہ پاکستان کے سفیر ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین دوستی باہمی اعتماد، احترام اور پرخلوص محبت کی بنیاد پر قائم ہے، پاک چین دوستی ہر آزمائش پر اتری ہے، پاکستان اور چین نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، دوستی اور تعلقات اتنے ہی دیرینہ ہیں جتنے کہ شاہراہ ریشم ہے، تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہ قراقرم دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کا ایک عظیم منصوبہ ہے، پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نےعوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا، 60 برس قبل بیجنگ جانے والی پہلی بین الاقوامی پرواز کراچی سے روانہ ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کے بقول شاعرمشرقہ علامہ محمد اقبال نے بھی ایک صدی قبل چین کی ترقی کی پیشگوئی کی تھی، چین نے جس طرح اپنے 8 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا وہ دنیا کا ماڈل ہے، چین آج دنیا کی ایک بڑی معاشی و فوجی طاقت ہے، ہمیں چین کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی پر فخر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے مشترکہ خوشحالی کے وژن نے دنیا کو اپنا گرویدہ کرلیا ہے، عوام کی فلاح و بہود چین کی حکومت کی ترجیح ہے، غربت کے خاتمے کا صدر شی جن پنگ کا وژن ہمارے لیے مشعل راہ ہے، غربت کا خاتمہ ہماری حکومت کی ترجیح ہے، پاکستان کی آبادی 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہمیں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ آج 30 ہزار کے قریب پاکستانی طلبہ چین میں زیرتعلیم ہیں، یہ طلبہ جدید، تحقیق، عصری تعلیم اور فنی مہارتوں سے استفادہ کررہے ہیں، ووکیشنل ٹریننگ وقت کا تقاضا ہے۔