پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتِ حال، مختلف حادثات میں 17 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتہ

پنجاب کے تینوں بڑے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتِ حال برقرار ہے جبکہ ریلے سندھ کی طرف بڑھنے لگے ہیں، سیلاب کے باعث کئی مقامات پر بند ٹوٹ گئے اور سیکڑوں بستیاں ڈوب گئیں، سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 17 افراد جاں بحق اور درجنوں لاپتہ ہیں، پاک فوج کا کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور لودھراں میں بھی فوج طلب کرلی گئی ہے۔

بھارت کی جانب سے پنجاب کے دریاؤں میں پانی چھوڑنے پر سیلاب نے پنجاب میں تباہی مچادی ہے، کئی مقامات پر بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا۔ راوی، چناب اور ستلج میں سیلابی ریلا گزرنے کے باعث اطراف کے دیہات زیر آب آگئے جبکہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔

سیلاب کے باعث گھروں کی چھت گرنے اور سیلابی پانی میں ڈوبنے سے 17 افراد کی اموات کی تصدیق ہوگئی جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔

شہریوں کا انخلا
پنجاب میں حالیہ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ دریائے چناب، راوی، ستلج، جہلم اور سندھ سے ملحقہ علاقوں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر صوبے بھر سے 45 ہزار سے زائد افراد کا انخلا ممکن بنایا گیا ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گجرات، گجرانوالہ، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، نارووال، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن شامل ہیں۔ پنجاب کے 30 اضلاع میں جاری ٹرانسپورٹیشن آپریشن میں 669 بوٹس اور 2861 ریسکیورز شریک ہیں۔

منڈی بہاؤالدین کے علاقے کالا شیدیاں سے 816 اور حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 625 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

ننکانہ صاحب میں 1553 افراد کو سیلابی پانی سے بحفاظت نکالا گیا، جن میں 568 خواتین اور 318 بچے بھی شامل ہیں۔

متاثرہ دیہاتوں سے 2392 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں ریسکیو آپریشن کے لیے 14 بوٹس، 93 ریسکیو ورکرز اور 122 رضاکار سرگرم عمل رہے۔

سیلاب متاثرین کے لیے قائم 7 فلڈ ریلیف اور شیلٹر کیمپس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر علاج، خوراک اور دیگر سہولیات کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

دریائے راوی
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں سیلابی پانی کے بہاو میں مسلسل اضافہ ہو رہا، اس وقت شاہدرہ کے مقام سے 1 لاکھ 91 ہزار کیو سکا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں تقریبا~ 2 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزرے گا۔

انتظامیہ و دیگر ادارے عام افراد کو دریائے راوی کے کناروں کی جانب جانے سے روک رہے ہیں۔

ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ لاہور کے مقام سے 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک کا ریلا بآسانی گزارا جا سکتا ہے۔

سیلابی پانی دریائے راوی کے کناروں سے اوپر ہوگیا اور شاہدرہ کی جانب ملحقہ آبادیوں میں بھی پانی بڑھنے لگا ہے۔ سیلابی پانی کی مقدار میں اضافے کے باعث اطراف کی مساجد میں آبادیاں خالی کرنے کے اعلانات ہو رہے ہیں۔

ریسیکو ٹیموں نے ’’پیرا‘‘ فورس کے ہمراہ اطراف کی آبادیوں میں مقیم افراد سے گھر خالی کروا لیے۔ لاہور کی پانچ تحصیلوں کے 22 موضعہ جات ضلعی انتظامیہ خالی کروا چکی ہے۔ سول ڈیفنس، ایدھی، ریسکو 1122 سمیت دیگر اداروں کے اہلکار بھی موجود ہیں۔

دریائے راوی کوٹ نینا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 80 ہزار کیوسک اور درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 21 ہزار کیوسک اور اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

سائفن کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 91 ہزار اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد 1 لاکھ چار ہزار کیوسک اور اخراج 92 ہزار کیوسک ہے جس کے سبب اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

ضلع شکرگڑھ میں سیکٹروں ایکٹر فصیلیں پانی میں ڈوب گئیں جبکہ درجنوں گھر گر گئے جس کے سبب 3 افراد جاں بحق ہوئے۔

دریائے چناب
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔

مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 91 ہزار جبکہ اخراج 1 لاکھ 85 ہزار کیوسک ہے۔ مرالہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں واضح کمی ہوئی ہے۔

دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ خانکی کے مقام پر پانی کا بہاو 8 لاکھ 59 ہزار کیوسک ہے۔

ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پانی کا بہاؤ 9 لاکھ 96 ہزار کیوسک ہے۔

دریائے چناب میں طغیانی سے سبمڑیال کے مقام پر 50 سے زائد دیہات زیر آب آچکے ہیں، سیلابی ریلے میں ڈوبنے والوں کی تعداد 8 ہوگئی۔

دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا کل جمعہ کو مظفرگڑھ پہنچے گا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیلابی پانی آئندہ 2 روز میں مظفرگڑھ کی حدود رنگ پور، ہیڈ محمد والا، مردآباد، دوآبہ اور سنکی سے گزرے گا۔

ڈپٹی کمشنر عثمان طاہر جپہ کے مطابق ضلع مظفرگڑھ کی حدود میں دریائے چناب میں سیلاب کا بہاؤ متوقع طور پر 6 سے 7 لاکھ کیوسک ہوسکتا ہے۔

انتہائی اونچے درجے کے ممکنہ سیلاب کے دوران حفاظتی فلڈ بندوں کی خستہ حالی کے باعث شہری پریشانی کا شکار ہیں۔ رنگپور، مراد آباد، بھٹیاں والی بستی، ٹھٹھہ سیالاں اور سنکی فلڈ بندوں میں دراڑیں پڑی ہوئی ہیں۔

دریائے چناب میں طغیانی سے چنیوٹ میں اس وقت ساڑھے 3 لاکھ کیوسک کا آبی ریلا گزر رہا ہے جبکہ گنجائش ساڑھے 9 لاکھ ہے۔

ڈپٹی کمشنر صفی اللہ گوندل کا کہنا ہے کہ چنیوٹ بند کو توڑنے کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، متعلقہ محکمے مل کر اس کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔ ہماری پہلی ترجیح آبادی اور چنیوٹ شہر کو بچانا ہے۔

دریائے ستلج
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک ہے۔

ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاو 1 لاکھ 9 ہزار کیوسک ہے، جس کے باعث درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ وہاڑی میں لکھا سلدیرا اور جتیرا کے حفاظتی بند ٹوٹ گئے جس کے سبب سیلابی پانی لکھا سلدیرا اور موضع جتیرا میں داخل ہوگیا۔

مراد والا بند ٹوٹنے سے کالیہ شاہ، موضع دھول، موضع سائیفن، جھوک گامو، جھوک فاضل اور ویرسی واہن شدید متاثر ہوئے بہاولنگر میں پانی کے تیز بہاؤ سے متعدد عارضی حفاظتی بند ٹوٹ گئے ۔

لودھراں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے فوج طلب
پنجاب میں سیلابی صورت حال کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے لودھراں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے فوج طلب کر لی ہے۔ پاک فوج کے دستوں کو ضلعی انتظامیہ کی امداد کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے، انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، سول ڈیفنس، ریسکیو اور پولیس ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔

محکمہ داخلہ کے مطابق 9 ہزار سے زائد سول ڈیفنس رضا کار فرائض سرانجام دے رہے ہیں، سیلابی علاقوں میں سول ڈیفنس کے ریلیف کیمپس قائم کیے ہیں، سول ڈیفنس پنجاب کے شہریوں کا مدد گارہے، عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں، شہری ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

پنجاب کے کون کون سے شہر سیلاب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں؟
پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب سے کون کون سے شہر زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، اس حوالے سے فہرست جاری کردی گئی ہے۔

دریائے چناب میں گجرات، حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، چنیوٹ اور جھنگ پر خطرات منڈ لانے لگے۔

دریائے راوی میں لاہورعلاقے کوٹ منڈو، عزیز کالونی، قیصر ٹاؤن اور فیصل پارک کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ راوی کا پانی شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور خانیوال کے دیہات کی طرف بڑھنے لگا۔

دریائے ستلج میں قصور، پاکپتن، پھول نگر، اوکاڑہ، بہاولنگر میں ہنگامی صورتحال ہے۔ این ڈی ایم اے نے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے الرٹ جاری کردیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دریائے راوی کا دورہ کرتے ہوئے کشتی میں سوار ہو کر شاہدرہ کے مقام کا جائزہ لیا، سینئر وزیر مریم اورنگزیب ، وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری اوروفاقی وزیر عبدالعلیم خان بھی ہمراہ تھے۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے افسران کی جانب سےوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بریفنگ بھی دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں