کوئٹہ ( اولس نیوز ) حکومت بلوچستان نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بیف) کمپنی کو تحلیل کرنے کا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ محکمہ خزانہ بلوچستان کی جانب سے 3 نومبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے فیصلے اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی منظوری سے کمپنی کو ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی تحلیل کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے چار رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جس کے چیئرمین سیکرٹری محکمہ خدمات و عمومی انتظامیہ ہوں گے، جبکہ ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کمیٹی کے رکن اور سیکرٹری مقرر کیے گئے ہیں۔
کمیٹی کو ادارے کے تمام اثاثوں، مالی وسائل، ریکارڈ اور واجبات کا تفصیلی جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فنڈز اور سرمایہ کاری کی چھان بین بھی کی جائے گی، جبکہ طلباء کو دی جانے والی تعلیمی وظائف کے وعدوں اور مختلف معاہدوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا تمام ریکارڈ اور معلوماتی نظام محکمہ خزانہ کے نئے تعلیمی وظائف یونٹ کو منتقل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ادارے کے 10 سے 15 تکنیکی ملازمین کو محکمہ خزانہ میں برقرار رکھنے کی سفارش بھی کی جائے گی۔
محکمہ خزانہ کے مطابق چار رکنی کمیٹی اپنی تشکیل کے 30 دن کے اندر تمام معاملات کا جائزہ مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوگی۔ اس حوالے سے سیکرٹری خزانہ محمد جہانگیر کاکڑ کے دستخط سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی تحلیل کے فیصلے کے بعد طلباء اور والدین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ پہلے سے منظور شدہ تعلیمی وظائف، زیرِ التوا درخواستوں اور مستقبل میں مستحق طلباء کو مالی معاونت فراہم کرنے کا نظام کس طرح جاری رکھا جائے گا۔




