اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ایگزٹ پولز اور ابتدائی نتائج نے ملک میں نئی سیاسی کشمکش کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سب سے بڑی انفرادی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم ان کے دائیں بازو اور مذہبی اتحادیوں پر مشتمل سیاسی بلاک پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
انتخابات میں سیکیورٹی خدشات اور سیاسی بے چینی کے باوجود ووٹرز نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق تقریباً 73 لاکھ اہل ووٹرز میں سے 57 لاکھ سے زائد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس کے نتیجے میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو 1999 کے بعد بلند ترین شرح بتائی گئی ہے۔
چینل 12 کے ایگزٹ پولز اور ابتدائی اندازوں کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں تقریباً 52 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ان کی جماعت لیکوڈ کو 27 نشستیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ ماضی میں نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کے پاس 68 نشستیں تھیں، تاہم نئے اندازوں کے مطابق اس کی پارلیمانی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما اور سابق فوجی سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد یشار اور دیگر اپوزیشن جماعتیں مجموعی طور پر تقریباً 49 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ ابتدائی اندازوں میں آئزن کوٹ کے اتحاد کو 21 سے 22 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، لیکن اپوزیشن کے لیے بھی حکومت بنانے کی راہ آسان نظر نہیں آ رہی۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں حکومت قائم کرنے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ ابتدائی نتائج کے مطابق کوئی بھی سیاسی بلاک اس حد تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس صورتِ حال میں چھوٹی جماعتوں کی حمایت، اتحادی مذاکرات اور سیاسی جوڑ توڑ حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان انتخابات میں عرب جماعتوں کی ممکنہ کامیابی بھی خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ مشترکہ فہرست (جوائنٹ لسٹ) اور رعام کے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو عرب نمائندگی اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک نمایاں سیاسی قوت کے طور پر سامنے آ سکتی ہے اور حکومت سازی کے مذاکرات میں ان جماعتوں کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔
تاہم وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے یروشلم میں خطاب کرتے ہوئے اپنے اتحادی بلاک کی نشستوں میں ممکنہ کمی کے باوجود دعویٰ کیا کہ انہیں صیہونی اور یہودی عوام کی اکثریتی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے عرب جماعتوں کو صیہونیت مخالف قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر دیا، جس سے حکومت سازی کے لیے سیاسی راستے مزید محدود ہونے کا امکان ہے۔
ادھر اپوزیشن رہنما گیڈی آئزن کوٹ نے ابتدائی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ تاہم اپوزیشن کے سامنے بھی سب سے بڑا چیلنج مختلف جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا ہوگا۔
اسرائیل کے آئینی طریقہ کار کے تحت حتمی نتائج کی سرکاری توثیق کے بعد صدر اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جو پارلیمنٹ میں اکثریت کی حمایت حاصل کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہو۔ حکومت سازی کے لیے مذاکرات کی مدت چار سے چھ ہفتے تک ہو سکتی ہے، جس دوران سیاسی جماعتیں ممکنہ اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کریں گی۔
اگر نیتن یاہو اور اپوزیشن میں سے کوئی بھی رہنما مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر نئے انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال ابتدائی نتائج نے نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل، عرب جماعتوں کے کردار اور اسرائیل میں ممکنہ نئی حکومت کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ حتمی سیاسی منظرنامہ سرکاری نتائج اور آئندہ اتحادی مذاکرات کے بعد ہی واضح ہوگا۔




