کوئٹہ (اولس نیوز): کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سوراب اور قلات کے درمیان مسلح افراد کی جانب سے متعدد مسافر بسیں روکنے، بھتہ وصول کرنے اور کئی کوچز اپنے ہمراہ لے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں اور ان کے لواحقین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
مسافروں کے مطابق آج صبح سویرے کراچی سے کوئٹہ آنے والی دس سے زائد مسافر بسوں کو مسلح افراد نے روک لیا۔ اطلاعات کے مطابق پانچ بسوں سے مبینہ طور پر فی بس 20 ہزار روپے وصول کیے گئے، جبکہ پانچ دیگر بسوں کو مسلح افراد اپنے ہمراہ لے گئے۔
اس سے قبل گزشتہ شب بھی کوئٹہ سے کراچی جانے والی چھ سے زائد مسافر بسوں کو مسلح افراد کی جانب سے اپنے ہمراہ لے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوران مسافروں کو شدید سردی میں قومی شاہراہ پر چھوڑ دیا گیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
مسافروں کے مطابق ان واقعات کے بعد شاہراہ پر پیچھے سے آنے والی متعدد دیگر کوچز کو بھی مذکورہ مقام سے کچھ آگے روک کر لوٹ لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد مغوی کوچز کو قریبی پہاڑی علاقوں کی جانب لے گئے۔ متاثرہ بسوں میں مختلف ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیاں شامل بتائی جاتی ہیں۔
ان واقعات کے باعث کوئٹہ اور کراچی کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں میں عدم تحفظ اور شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ مسافروں کے اہل خانہ بھی اپنے پیاروں کی خیریت کے حوالے سے پریشان ہیں۔
ایک مسافر بس کمپنی کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلح افراد مبینہ طور پر ٹرانسپورٹرز سے ماہانہ بھتہ طلب کرتے ہیں اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں مسافر بسیں اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ ان کے بقول، بعد ازاں مبینہ طور پر پانچ سے دس لاکھ روپے وصول کرکے بسیں واپس چھوڑی جاتی ہیں۔
ٹرانسپورٹر کے مطابق سوراب اور منگچر کے علاقوں میں اس نوعیت کے واقعات اکثر پیش آتے ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔
تاہم، ان واقعات کی تاحال سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ سوراب کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ واقعات سے متعلق تمام اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔




