کوئٹہ: ینگ لائرز الائنس بلوچستان نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کوئٹہ کینٹ میں پیش آنے والے واقعے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بلوچستان کی بیٹیاں ان کے لیے قابلِ احترام ہیں اور خواتین کے تعلیمی اداروں کا تقدس اور طالبات کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ینگ لائرز الائنس نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی خاتون یا طالبہ کے ساتھ بدتمیزی، ہراسانی یا غیر مہذب رویہ ناقابلِ قبول ہے اور اگر کسی وکیل سمیت کوئی بھی شخص قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے تو اسے قانون کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے۔
الائنس کا مؤقف ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق اصل معاملہ کالج انتظامیہ اور ایک وکیل کے درمیان پیدا ہوا تھا، جسے بعد ازاں پرنسپل کے دفتر میں فریقین کے درمیان گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے ذریعے ختم کر دیا گیا تھا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ معاملے کو مزید نہ بڑھانے پر اتفاق کے باوجود بعد میں ختم شدہ تنازع دوبارہ سامنے آیا اور کالج کی CCTV فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر پہنچ گئی۔ الائنس نے الزام عائد کیا کہ بار کے بعض افراد نے ذاتی اختلافات کے باعث معاملے کو دوبارہ اٹھایا اور اسے نوجوان وکلا کے خلاف استعمال کیا۔
ینگ لائرز الائنس نے واضح کیا کہ وکیل ہونا کسی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا، تاہم وکلا کو بھی اپنے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق حاصل ہیں۔ بیان کے مطابق اگر کسی وکیل نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ کسی وکیل کے ساتھ مبینہ زیادتی کی بھی غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
الائنس نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے واقعے کے آغاز سے اختتام تک مکمل اور غیر ترمیم شدہ CCTV فوٹیج کا جائزہ لیا جائے، تاکہ تمام فریقین کے کردار کا تعین کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ ینگ لائرز الائنس کسی غیرقانونی عمل کا دفاع نہیں کرے گا، تاہم کسی نوجوان وکیل کو یکطرفہ بیانیے یا ذاتی اختلافات کی بنیاد پر نشانہ بنانے کی مخالفت کرے گا اور مبینہ زیادتی کی صورت میں قانونی فورمز پر اپنے ساتھی کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
ینگ لائرز الائنس نے وکلا برادری سے بھی اپیل کی کہ ذاتی اختلافات کو پیشہ ورانہ معاملات پر حاوی نہ ہونے دیا جائے اور وکالت کے اجتماعی وقار کو مقدم رکھا جائے۔
