پشاور: وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ اگر امن و امان کی صورتحال کو گورنر راج کے لیے جواز بنایا جا رہا ہے تو پہلے بلوچستان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا بڑا حصہ ان کے مطابق نو گو ایریا بن چکا ہے۔
پریس کانفرنس میں شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر صوبائی حکومت کے خلاف منفی بیانیہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خاتمے اور پالیسی سازی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشتگردی کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے اور امن و امان کو ترجیح دی گئی ہے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کے لیے متعدد خطوط لکھے، تاہم ان کے مطابق جواب نہیں ملا۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔
اگر امن و امان گورنر راج کی وجہ ہے تو پہلے بلوچستان میں گورنر راج لگایا جائے، خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا گیا تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔شفیع جان




