سرانان واقعہ حکومت میں موجود “کالی بھیڑیوں” کی کارروائی ہے: محمود خان اچکزئی

اسلام آباد ( اولس نیوز )  قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے سرانان واقعے پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ الزام لگا رہے ہیں کہ سرانان میں جو کچھ ہوا، اس کے پیچھے حکومت کے اندر موجود “کالی بھیڑیں” ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “کل اور پرسوں سرانان میں جو کچھ ہوا، کسی کے کان پر جوں تک نہیں ری نگی۔” ان کے بقول واقعے کی نوعیت انتہائی سنگین تھی، مگر متعلقہ حلقوں کی جانب سے مؤثر ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ حکومت کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو معاملات کو خراب کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے بانی پاکستان تحریک انصاف کی صحت اور اسپتال منتقلی کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن کو اسپتال کے دوسرے کمرے میں بند کیا گیا، جبکہ پورے ملک میں یہ خبر پھیل گئی تھی کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ رات کی تاریکی میں بانی پی ٹی آئی کو کسی اور اسپتال منتقل کر دیا گیا، جس پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ “ہماری حکومت میں ایسے عناصر موجود ہیں جو تحریک انصاف اور حکومت کے معاملات کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں