سائنس کالج کا پروفیسر 30 سال بعد جعلی ڈگریوں میں پکڑا گیا

کوئٹہ  ( اولس نیوز )  گورنمنٹ سائنس کالج کے پروفیسر مجاہد عمر مبینہ جعلی ڈگریوں کے معاملے میں 30 سال بعد پکڑے گئے۔

ذرائع کے مطابق پروفیسر مجاہد عمر نے مبینہ طور پر جعلی مگر اعلیٰ نمبروں والی ڈگریوں کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہی اسناد کی بنیاد پر انہیں قائداعظم گولڈ میڈل اور نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ بھی ملتی رہی۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے پروفیسر مجاہد عمر کی ڈگریوں اور دیگر تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال شروع کردی گئی ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مبینہ طور پر مشکوک اسناد کس ادارے سے جاری ہوئیں، ان کی بنیاد پر سرکاری ملازمت کیسے حاصل کی گئی اور بعد ازاں انہی اسناد کی بنیاد پر اعزازات اور اسکالرشپ کیسے دی جاتی رہیں۔

اگر تحقیقات میں جعلی ڈگریوں سے متعلق الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ یہ اسناد تقریباً 30 سال تک متعلقہ اداروں کی نظروں سے کیسے اوجھل رہیں؟

مزید یہ کہ اگر انہی اسناد کی بنیاد پر قائداعظم گولڈ میڈل اور نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ حاصل کی گئی تو ان اعزازات اور اسکالرشپ کے لیے اسناد کی تصدیق کا عمل اس وقت کیسے مکمل کیا گیا؟

متعلقہ اداروں کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ پروفیسر مجاہد عمر کے خلاف لگائے گئے الزامات میں کتنی صداقت ہے اور اس معاملے میں ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں