بغداد میں زور دار دھماکے، وکٹری بیس پر راکٹ حملہ

عراق کے دارالحکومت بغداد میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کی وجہ ڈرون حملے نہیں بلکہ راکٹ فائرنگ بتائی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ راکٹ بغداد کے قریب واقع وکٹری بیس کی جانب داغے گئے، جو ماضی میں امریکی افواج کے زیر استعمال رہا ہے اور شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق دفاعی نظام ان راکٹوں کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں عراقی اسپیشل فورسز کے ایک ٹرانسپورٹ طیارے کو نقصان پہنچا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

یہ واقعہ اس لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ اس فوجی اڈے کو پہلی بار اس نوعیت کے براہِ راست حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت وہاں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں تھے کیونکہ یہ تنصیب پہلے ہی خالی کی جا چکی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس حملے کی اہمیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ ماضی میں یہی علاقہ انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب وہاں حملہ ہونا بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ رات کے دوران بغداد کی فضا میں جنگی طیاروں کی سرگرمیاں بھی دیکھی گئیں، جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔

ادھر اربیل میں بھی ایک ڈرون حملے کی کوشش کی گئی، جہاں امریکی قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، تاہم وہاں موجود دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈرونز کو تباہ کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں