کوئٹہ میں ساڑھے گیارہ کروڑ کی ڈکیتی کیس میں قائمقام ڈی ایس پی سمیت 7 ملزمان گرفتار

کوئٹہ(اولس نیوز ) بلوچستان کے دارالحکومت میں ہونے والی ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی بڑی ڈکیتی کے مقدمے میں پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے قائمقام ڈی ایس پی اور تین پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ (ایس سی آئی ڈبلیو) کے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے مجموعی طور پر 2 کروڑ 37 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے ہیں، جن میں سے 40 لاکھ روپے قائمقام ڈی ایس پی کے قبضے سے ملے۔

تحقیقات کے مطابق یہ واردات 17 رکنی گروہ نے کی تھی جبکہ مزید 10 مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اینٹی ٹیررازم فورس کے انسپکٹر اورنگزیب کھوکھر، جو سی ٹی ڈی کے اسپیشل آپریشن ونگ میں تعینات تھے، کو شواہد سامنے آنے پر پیر کے روز گرفتار کیا گیا۔ انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ سیف اللہ ترین کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے تین روزہ ریمانڈ پر انہیں ایس سی آئی ڈبلیو کے حوالے کر دیا۔

اس سے قبل اسی کیس میں پولیس اہلکار محمود اور قلعہ عبداللہ کے رہائشی حبیب کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق مزید اہلکاروں کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے جو واقعے کے بعد سے مفرور ہیں۔

یہ ڈکیتی دسمبر 2025 میں تھانہ سٹی کی حدود میں واقع کوئٹہ کے معروف کاروباری مرکز ’کٹ پیس مارکیٹ‘ میں پیش آئی تھی۔ متاثرہ تاجر اسد اللہ لونی نے ایف آئی آر درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا سولر اور کپڑوں کا کاروبار ہے اور مسجد روڈ پر واقع شاپنگ سینٹر میں ان کا دفتر موجود ہے۔

مدعی کے مطابق یکم دسمبر کو انہوں نے دو تاجروں سے 11 کروڑ 50 لاکھ روپے وصول کرنے کے لیے انہیں قندھاری بازار میں واقع ایک نجی بینک بلایا۔ شام چھ بجے رقم وصول کر کے اسے شاپنگ سینٹر کے دفتر منتقل کیا گیا جہاں گنتی کے بعد رقم انڈر گراؤنڈ لاکر میں رکھ دی گئی۔ مارکیٹ بند ہونے کے بعد وہ گھر چلے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق رات گئے مارکیٹ کے صدر نے اطلاع دی کہ شاپنگ سینٹر میں چوری ہو گئی ہے۔ موقع پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ دفتر اور شاپنگ سینٹر کے تالے توڑ کر لاکر سے ساڑھے گیارہ کروڑ روپے نکال لیے گئے ہیں۔

مارکیٹ کے چوکیدار کے بیان کے مطابق رات تقریباً تین بجے تین گاڑیوں میں مسلح افراد آئے۔ انہوں نے مسجد روڈ والے گیٹ کا تالا توڑا، پانچ افراد اندر داخل ہوئے اور چوکیدار کو قابو میں کر لیا۔ بعد ازاں وہ واردات کر کے فرار ہو گئے۔

ابتدائی تحقیقات کے بعد کیس ایس سی آئی ڈبلیو کے سپرد کیا گیا۔ تفتیشی حکام نے چوکیدار، تاجروں اور ملازمین کے بیانات قلم بند کیے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مخبروں کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ قلعہ عبداللہ کا ایک گروہ، جو بینکوں سے رقوم نکالنے والوں اور حوالہ ہنڈی سے وابستہ افراد کو نشانہ بناتا رہا ہے، اس واردات میں ملوث ہے۔ ذرائع کے مطابق اس گروہ نے بعض پولیس افسران کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور کیس کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں