پشین کی کلی کربلا میں سی ٹی ڈی آپریشن، تین مطلوب ملزمان سمیت 6 افراد ہلاک ، 10 پولیس اہلکار زخمی

پشین (اولس نیوز) گزشتہ روز پشین کی کلی کربلہ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے کیے گئے آپریشن سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر سرکاری مؤقف اور مقامی آبادی کے بیانات میں فرق بھی پایا جاتا ہے۔

سی ٹی ڈی اور پولیس ترجمان کے مطابق 26 جنوری کی صبح سی ٹی ڈی کوئٹہ کی ٹیم نے کلی کربلہ پشین میں مختلف مقدمات میں مطلوب ملزم ثناءاللہ آغا کی گرفتاری کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران مبینہ طور پر ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں اور ملزمان کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

آپریشن ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی قیادت میں کئی گھنٹوں تک جاری رہا، جس دوران پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ شام کے وقت کارروائی مکمل ہونے پر ثناءاللہ آغا اور اس کے دو بھائی پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق تینوں ہلاک افراد دہشت گردی کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 10 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون کی رٹ قائم رکھنے کے لیے شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، جبکہ اشتہاری اور مطلوب ملزمان کے خلاف بلوچستان پولیس کی خصوصی مہم بھی جاری ہے۔

دوسری جانب مقامی ذرائع اور علاقے کے معززین کے مطابق آپریشن کے دوران کلی کربلہ سے تعلق رکھنے والے دو ثالِثین، چچا رحیم اور چچا قدیم، جبکہ ایک راہگیر جانان کے بھی ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

علاقے کے معززین کا کہنا ہے کہ بعض ہلاک افراد کی لاشیں، جن میں دو ثالِثین اور راہگیر جانان شامل بتائے جا رہے ہیں، تاحال سی ٹی ڈی کی تحویل میں ہیں۔ ان کا خدشہ ہے کہ ان افراد کو بھی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے، حالانکہ مقامی لوگوں کے مطابق ان کا کسی عسکری یا جرائم پیشہ سرگرمی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔
مزید برآں گھر کے مالک عبد الکریم سی ٹی ڈی کی تحویل میں ہے۔

سی ٹی ڈی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اور مکمل طور پر قانون کے مطابق کی گئی، کارروائی سے متعلق ویڈیو بھی منظر عام پر آ چکی ہے، تاہم تمام ہلاکتوں اور مقامی دعوؤں سے متعلق حتمی اور تفصیلی سرکاری تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

علاقے کے معززین اور اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

مزید پیش رفت سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں