بیف کی بندش، 19 ہزار طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان، شکیلہ نوید دہوار

بیف کی بندش، 19 ہزار طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان، شکیلہ نوید دہوار

بیف ختم کرنے کا حکومتی فیصلہ مسترد، 19 ہزار سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دیں گے، شکیلہ نوید دہوار
کوئٹہ ( اولس نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی خواتین سیکرٹری اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (بیف) کو ختم کرنے کے حکومتی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 19 ہزار 548 طلبہ اور 90 سے زائد ملازمین کا مستقبل داؤ پر لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اپنے جاری کردہ بیان میں شکیلہ نوید دہوار نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے ہی غربت اور بے روزگاری کے باعث طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع انتہائی محدود ہیں۔ ایسے حالات میں ہزاروں طلبہ کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے والے ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ تعلیم دشمن اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت 19 ہزار 548 طلبہ مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ 45 طلبہ بیرون ملک قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے میں 90 سے زائد ملازمین بھی تعینات ہیں۔

شکیلہ نوید دہوار کا کہنا تھا کہ حکومت کو یک جنبش قلم ہزاروں طلبہ اور ملازمین کا مستقبل داؤ پر لگانے کا اختیار حاصل نہیں، سیاسی اور جمہوری قوتیں بھی ان کے مستقبل کو متاثر ہونے نہیں دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ ہزاروں طلبہ کو وظائف فراہم کرکے ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادارے کی بندش سے نہ صرف زیرِ تعلیم طلبہ متاثر ہوں گے بلکہ وہ نوجوان بھی اعلیٰ تعلیم سے محروم ہوسکتے ہیں جو معاشی مشکلات کے باعث اپنی تعلیم جاری رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس فیصلے کے خلاف وکلا تنظیموں اور دیگر سیاسی و جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں