چالیس لاکھ آبادی کا شہر، مگر ایک بھی عوامی باتھ روم نہیں

وامی بیت الخلاء کی جگہوں پر مبینہ قبضے، پلازے تعمیر ہوئے ہیں

چالیس لاکھ آبادی کا شہر، مگر ایک بھی عوامی باتھ روم نہیں

کوئٹہ (سٹاپ رپورٹر) کوئٹہ، جو کبھی تقریباً 50 ہزار نفوس پر مشتمل شہر تھا، وہاں شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے 36 حلقوں میں 42 عوامی باتھ روم تعمیر کیے گئے تھے۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ شہر کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوگیا اور آج کوئٹہ کی آبادی تقریباً 40 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، مگر شہر میں ایک بھی عوامی باتھ روم موجود نہیں۔

شہریوں کے مطابق عوامی سہولیات کے لیے مختص کیے گئے بیشتر مقامات پر مبینہ طور پر قبضے کرکے پلازے اور دیگر تجارتی عمارتیں تعمیر کردی گئی ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کوئٹہ میں عوامی بیت الخلاء کی عدم موجودگی نہ صرف شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے بلکہ یہ شہر میں بنیادی شہری سہولیات کی صورتحال پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود عوامی سہولیات میں اضافہ کرنے کے بجائے پہلے سے موجود سہولیات بھی ختم ہوتی جارہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ عوامی باتھ رومز کے لیے مختص جگہیں کہاں گئیں، ان پر قبضے کیسے ہوئے اور شہری سہولیات کی حفاظت کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے؟

کوئٹہ کے شہری اب متعلقہ حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ عوامی بیت الخلاء کے لیے مختص سابقہ مقامات کا ریکارڈ سامنے لایا جائے اور شہر میں شہریوں کے لیے فوری طور پر مناسب عوامی سہولیات فراہم کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں