کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ میں اخبارات کے اشتہارات سوشل میڈیا کو دینے کے خلاف دائر کیس کی سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت جسٹس کامران خان ملاخیل نے استفسار کیا کہ آپ کا اخبار کہاں ہے؟ تو درخواست گزار اپنا اخبار موبائل فون میں دکھانے لگا۔ اس پر جسٹس کامران خان ملاخیل نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں حیران ہوں کہ آپ کیس تو سوشل میڈیا کے خلاف لے کر آگئے ہیں، جبکہ اپنا اخبار بھی سوشل میڈیا ایپ ہی میں دکھا رہے ہیں۔جسٹس کامران خان ملاخیل نے ریمارکس دیے کہ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، آپ کس طرح سوشل میڈیا کو اشتہارات نہ دینے کی بات کر سکتے ہیں؟ انہوں نے مزید پوچھا کہ آپ کا اخبار کہاں سے شائع ہوتا ہے؟ میں نے اس کا نام پہلی بار سنا ہے۔
عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ 15 منٹ میں اپنا اخبار عدالت میں پیش کریں اور ساتھ ہی مہینے بھر میں شائع ہونے والے اخبارات اور ملنے والے اشتہارات کی تفصیلات بھی فراہم کریں۔