کلی بابری سانحہ: 4 افراد شہید، 20 سے زائد زخمی، لاپتہ افراد کی تلاش جاری

کوئٹہ( اولس نیوز ) کوئٹہ شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہنہ اُرک کی کلی بابری میں گزشتہ رات مسلح افراد اور اُرک قبائل کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپوں میں اب تک چار افراد شہید جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ 12 کے قریب افراد تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں نقیب اللہ، اشرف خان، داود خان اور گلریز خان شامل ہیں۔ رات کے اندھیرے اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کے باعث مقامی افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں مصروف رہے، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم حتمی اعداد و شمار کا انتظار ہے۔

واقعے کے خلاف آج ایک بار پھر کوئٹہ میں بی اے مال کے سامنے متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ “جب تک انصاف نہیں ملتا اور علاقے میں مستقل امن قائم نہیں ہوتا، ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔”

دوسری جانب حکومتِ بلوچستان نے کلی بابری، ہنہ اُرک میں پولیس اور فرنٹیئر کور (FC) کی مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان نے پولیس اور ایف سی کو مقام، نفری اور درکار وسائل سے متعلق مشترکہ رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق نئی مشترکہ سیکیورٹی چیک پوسٹ کا مقصد علاقے میں امن و امان، فوری ردعمل اور سیکیورٹی رابطوں کو مزید مؤثر بنانا ہے، جبکہ مقامی آبادی اس مقصد کے لیے زمین فراہم کرے گی۔

تاہم اس پیش رفت کے باوجود کئی اہم سوالات بدستور موجود ہیں۔ اگر علاقے میں سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پہلے سے موجود تھی تو بروقت اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ جب عوام مسلسل خطرات کی نشاندہی کرتے رہے تو حفاظتی انتظامات مؤثر کیوں نہ بن سکے؟ اور اگر ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے تو پھر مقامی آبادی کو اپنے دفاع کے لیے خود کیوں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے؟

عوام کا مطالبہ ہے کہ صرف نئی چیک پوسٹ کے قیام سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی، لاپتہ افراد کی فوری بازیابی اور علاقے میں مستقل امن کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اگر اس واقعے میں واقعی سرحد پار سے آنے والے مسلح عناصر، افغانستان کی سابق سیکیورٹی فورسز کے منحرف اہلکار یا کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی سے وابستہ افراد ملوث ہیں، تو سوال یہ ہے کہ ایسے خطرات کا مستقل خاتمہ کب ہوگا؟ عوام چاہتے ہیں کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے واضح حکمتِ عملی اور مؤثر اقدامات سامنے لائیں تاکہ شہری خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں