دکی سے اغوا ہونے والے دو مزدوروں کی ماؤں کی رہائی کی اپیل’ہمارے بچے صرف 20 ہزار روپے کی مزدوری کرتے تھے‘
بلوچستان کے ضلع دکی کے علاقے تھل سے اغوا ہونے والے دو مزدوروں کی ماؤں نے اغوا کاروں سے اپیل کی ہے کہ ان کے بچوں کو رہا کیا جائے، وہ صرف 20 ہزار روپے کی مزدوری کرکے اپنے گھر والوں کا پیٹ پال رہے تھے ان کا کوئی قصور نہیں۔
ایک ویڈیو بیان میں مغوی مزدور امین اللہ ترین اور ان کے چچا زاد بھائی وزیر خان کی ماؤں نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ ان کے بیٹے غربت سے مجبور ہوکر تعمیراتی کیمپ میں مزدوری کررہے تھے اور اپنے خاندانوں کا پیٹ پال رہے تھے ،ان کا کسی سے کوئی تنازع یا قصور نہیں۔ انہوں نے اغوا کاروں سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں کو بحفاظت رہا کیا جائے۔
امین اللہ ترین کے والد اسد خان کے مطابق دونوں مزدور ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ سڑک کی تعمیر کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 18 مئی کو جب وہ کیمپ سے گھر واپس آ رہے تھے تو راستے میں نامعلوم افراد نے انہیں اغوا کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کو ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب تک نہ تو مغویوں کے بارے میں کوئی اطلاع ملی ہے اور نہ ہی اغوا کاروں کی جانب سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔ تاہم معلوم ہوا ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے تعیراتی کمپنی کے ٹھیکیدارکو فون کر کے کام بند کرنے اور کیمپ دوسری جگہ منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔
اسد خان نے کہا کہ وہ غریب لوگ ہیں اور نہ کمپنی، نہ ٹھیکیدار اور نہ ہی سرکاری حکام سے بات منواسکتے ہیں اس لیے ان کے بچوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔
وزیر خان کی والدہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کا بیٹا گھر کا واحد کفیل ہے، اس کے والد کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے جبکہ اس کے اپنے چھوٹے بچے بھی ہیں جو اپنے والد کی جدائی میں مسلسل سوال کر رہے ہیں اور روتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے باعث ان کا بیٹا معمولی مزدوری کر کے خاندان کی کفالت کررہا تھا۔
امین اللہ کی والدہ نے بھی روتے ہوئے کہا کہ ان کے بچوں کو بغیر کسی جرم کے اغوا کیا گیا، ان کا کسی کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں تھا، وہ صرف محنت مزدوری کر رہے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ان کے بیٹوں کو کس قصور کی سزا دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی جدائی میں ان پر دن اور رات دونوں بھاری گزر رہے ہیں۔ پورا خاندان مسلسل نماز، نوافل اور قرآن خوانی کر رہا ہے ۔انہوں نے اغوا کاروں سے قرآن پاک کا واسطہ دے کر اپیل کی کہ ان کے بچوں پر رحم کیا جائے اور انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے۔




