اولس نیوز کی نشاندہی کے باوجود کوئٹہ میں شیشہ پوائنٹس بند نہ ہو سکے

کوئٹہ (اولس نیوز ) کوئٹہ شہر میں ایک بار پھر کافی شاپس کے نام پر شیشہ پوائنٹس سرگرم ہو گئے ہیں، جس نے شہریوں خصوصاً نوجوان نسل کے لیے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں یہ مقامات کھلے عام کام کر رہے ہیں جہاں طلباء، طالبات اور عام شہری بڑی تعداد میں شیشہ نوشی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اولس نیوز کوئٹہ اس مسئلے کی پہلے ہی نشاندہی کر چکا تھا اور ان شیشہ پوائنٹس کے خلاف رپورٹس بھی سامنے لا چکا ہے۔ اس کے باوجود صورتحال میں بہتری کے بجائے مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ان شیشہ پوائنٹس کے خلاف ماضی میں کارروائیاں بھی کی گئی تھیں اور عدالتوں کی جانب سے واضح احکامات جاری کیے گئے تھے کہ اس غیر قانونی سرگرمی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ تاہم، ان احکامات کے باوجود کاروبار نہ صرف جاری ہے بلکہ پہلے سے زیادہ منظم انداز میں چلایا جا رہا ہے۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ شیشہ پوائنٹس نوجوانوں کو نشے کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے طلباء بھی اس رجحان کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے بلکہ ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ رہا ہے۔

تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض مقامات پر مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی یا ملی بھگت کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا دعویٰ ہے کہ کچھ عناصر ہفتہ وار بھتہ وصول کر کے ان غیر قانونی کاروباروں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جس کے باعث یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

سماجی کارکنوں اور شہری تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے اور نوجوان نسل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کی ایک خطرناک علامت بھی ہے، جس کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں